کوئٹہ: امیرجماعت اسلامی بلوچستان ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ پاک ایران سرحدی علاقے گبد/ریمدان بی پی 250 پہنچ گئے
جہاں انہوں نے پاک ایران سرحدی مارکیٹ کا دورہ،تاجر برادری سے ملاقات اور ان کے مسائل تفصیل سے سنے۔ملاقات کے دوران تاجروں نے امیرجماعت اسلامی بلوچستان ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ کو آگاہ کیا کہ بی پی250بارڈر پوائنٹ سے سالانہ چار سے پانچ ارب روپے حکومتی خزانے میں جمع کروائے جاتے ہیں تاہم اس کے باوجود بنیادی سہولیات کا شدیدفقدان بارڈر پر نہ پینے کاصاف پانی نہ بجلی،
نہ مناسب انفراسٹرکچر اور نہ ہی جدید دور کے تقاضوں کے مطابق انٹرنیٹ کی سہولت دستیاب ہے جس کے باعث کاروباری سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں۔
اس موقع پر امیرجماعت اسلامی بلوچستان ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے تاجروں کے مسائل سنے اور یقین دہانی کرائی کہ وہ ان مسائل کو متعلقہ حکام اور مقتدرحلقوں تک پہنچا کر ان کے حل کے لیے بھرپور کردار ادا کریں گے۔مولاناہدایت الرحمان بلوچ نے تاجروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاک ایران سرحدی تجارت ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے،
خاص طور پر گوادر اورمکران کے عوام کے لیے روزگار کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔بارڈر ایریاز میں بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے تاکہ تجارت کو فروغ ملے اور تاجر برادری کو درپیش مشکلات میں کمی آئے۔مولانا ہدایت الرحمن نے مزید کہا کہ اگر بارڈر پر جدید سہولیات،بہتر انفراسٹرکچراور انٹرنیٹ کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے تو نہ صرف تجارت میں اضافہ ہوگابلکہ حکومتی ریونیو میں بھی نمایاں بہتری آئے گی-
Leave a Reply