|

وقتِ اشاعت :   November 10 – 2020

تہران/اسلام آبا: ایرانی رجیم اپنے نظریاتی اور تزویراتی اہداف کے حصول اور خطے کے ممالک میں عدم استحکام کے لیے کئی عسکری گروپوں کو استعمال کر رہا ہے۔ انہی ملیشیاوں میں ایک زینبیون بریگیڈ بھی ہے۔ یہ تنظیم سنہ 2012 کو ایرانی پاسداران انقلاب نے قائم کی تھی۔ اس میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے جنگجووں کو شام میں لڑائی کے لیے بھرتی کیا گیا۔ شام میں کام مکمل ہونے بعد جب ان جنگجووں کو واپس ایران لایا گیا۔

تو ایران نے اس گروپ کو پاکستان پر دباو ڈالنے کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق ماہرین کا خیال ہے زینبیون بریگیڈ کی آڑ میں ایران اپنے پڑوسی ملک پاکستان کو بلیک میل کرنا چاہتاہے اور اس گروپ کو پاکستان میں فرقہ واریت پھیلانے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس گروپ کو پاکستان کے لیے ٹائم بم قرار دیا جا رہا ہے۔

شام میں سیاسی اور عسکری تغیرات اور دمشق میں ایرانی اثرونفوذ میں کمی کے بعد افغانستان، عراق، پاکستان اور دوسرے ملکوں سے آئے جنگجووں کو بھی واپس ان کے ملکوں کو بھیجا جا رہا ہے۔پاکستانی انٹیلی جنس حکام کے مطابق شام سے ایران لوٹنے والے زینبیون بریگیڈ کے دسیوں جنگجو خفیہ اور غیرقانونی طریقے سے پاکستان میں داخل ہو رہے ہیں۔ انٹیلی جنس حکام کا کہنا تھا کہ پاکستان سے بھرتی کیے گئے ان جنگجووں کو اب شام سے واپس پاکستان لایا جا رہا ہے۔

کیونکہ شام میں ایران کو اب ان کی ضرورت نہیں رہی ہے۔پاکستانی حلقوں کو تشویش اور خدشہ ہے کہ شام سے واپس آنے والے یہ جنگجو پہلے سے فرقہ واریت کا شکار رہنے والے ملک میں مزید مذہبی منافرت پھیلانے اور خطے میں نئی جنگ کو ہوا دینے کا باعث بن سکتے ہیں۔