ٹنڈوالہیار: سندھ میں کم عمری میں شادیاں ایک المیہ ہے اور زبردستی شادیوں کے فیصلے پر سخت ایکشن لیا جائے گا،سندھ کے 15’اضلاع میں خواتین و بچوں اور شی میل کی قانونی مدد کے لئے خصوصی سیل قائم کئے گئے ہیں۔
،اقلیتوں کا تحفظ ہماری اہم ذمہ داری ہے عوام پولیس کے ساتھ تعاون کریں ان خیالات کا اظہار ایڈیشنل آئی جی سندھ ڈاکٹر جمیل احمد شیخ نے ٹنڈوالہیا رکی تحصیل چمبڑ کے نزدیک کپری موری میں ہالیپوٹہ ہاؤس کی جانب سے مستحق افراد میں راشن تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ایڈیشنل آئی جی ڈاکٹر جمیل احمد شیخ نے کہا کہ دکھی انسانیت کی خدمت کرنا بہترین عمل ہے۔
اور کپری موری کے ہالیپوٹہ برادری نے بہترین کام کیا ہے انہوں نے کہا کہ سماجی کاموں کے ساتھ ساتھ تعلیم کی جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے اسکولوں میں بنیادی اشیاء کی کمی ہوتی ہے جس کے لئے مخیر حضرات کو آگے آکر نیا کلچر متعارف کرانا چاہئے ان کا کہنا تھا اسپتالوں کی حالات میں تبدیلی اچھا عمل ہے کیوں کہ اچھی صحت معاشرے کے لئے لازمی ہے انہوں نے کہا سماجی انصاف کا عمل بہت اچھی بات ہے۔
اور امن و امان کی خاطر پولیس کا اہم کردارہے عوام کو بھی چائیے کہ پولیس کے ساتھ تعاون کریں انہوں نے کہا 15 اضلاع میں خواتین و بچوں اور شی میل کی قانونی مدد کے لئے خصوصی سیل قائم کیے گئے ہیں وومن اور چائیلڈ پروٹیکشن سینٹر بھی کام کر رہے ہیں ہیں ڈاکٹر جمیل احمد شیخ نے کہا کہ سندھ میں کم عمری میں شادیاں ایک المیہ ہے جس کے لئے قانون میں سختی کی گئیں ہیں۔
اور زبردستی شادیوں کے فیصلے کرنے والوں کے خلاف سخت ایکشن کیا جائے گا انہوں نے کہا عالمی اداروں کے ساتھ انسانی حقوق کے حوالے سے جو معاہدے ہوئے ہیں اس پر عمل کراناہمارا کام ہے اس طرح اقلیتوں کے حقوق کی خاطرسپریم کورٹ کی جانب سے جاری کیے گئے فیصلوں کی روشنی میں ہندو برادری کی خوشی و غمی میں بھی شریک ہوکر ان کا تحفظ کیا جائے گا۔