|

وقتِ اشاعت :   December 14 – 2020

مچھ: محکمہ ماحولیات نے بولان کے تمام کریش پلانٹس کو آلودگی کی باعث قرار دے کر بند کردی جسکی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں متاثر مزدوروں کی ایک بڑی تعداد بے روزگار تفصیلات کیمطابق دو ہفتہ قبل مچھ وگردنواح میں کریش پلانٹس کو محکمہ ماحولیات نے آلودگی کی باعث قرار دے کر بند کردی کریش پلانٹس کی بندش سے سیکڑوں مزدور بے روز گار ہوکر نان شبینہ کیلئے محتاج ہوکررہ گئی ہیں۔

موجودہ مہنگائی نے مزدور و غریب طبقے کی کمر توڑ رکھی ہے ایسی صورتحال میں ان سے روزگار چھیننا معاشی قتل کے مترادف ہے اس موقع پر انسانی حقوق مچھ کے رہنماء عامر یوسفزئی نے کہا کہ ماحولیات کو بہانہ بناکرمحنت کش طبقے کو فاقہ کشی پر مجبور کیا جارہا ہے اس سے کئی زائدہ آلودگی کا باعث مچھ شہر عین درمیان میں واقع معدنی کوئلے کے ڈپوز ہیں جو برائے راست اسکول کے بچوں اور شہریوں کو سانس کی بیماریوں کا شکار بنارہے ہیں۔

جہاں محکمہ ماحولیات بااثر طبقے کے سامنے مکمل طور بے بس دیکھائی دیتا ہے نیشنل پارٹی مچھ کے لیبر سیکرٹری عبدالغفور سمالانی نے محکمہ ماحولیات کے مزدور دشمن اقدامات کے شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کریش پلانٹس کی بندش کیوجہ سے سیکڑوں مزدوروں کے گھروں کے چھولے ٹھنڈے پڑگئے ہیں۔

ایک جانب بے تحاشہ مہنگائی نے غریب عوام کی زندگی اجیرن کردی ہے محکمہ ماحولیات و مقامی انتظامیہ ہوش کے ناخن لے اور مزدورں کے معاشی قتل عام کو فلفور بندکرکے کریش پلانٹس کی بندش کا فیصلہ واپس لیا جائے تاکہ مزدور طبقہ باعزت اپنے نان شبینہ کے قابل ہوسکے۔