|

وقتِ اشاعت :   December 14 – 2020

تربت: ہیرونک میں نوجوانوں کے بہیمانہ قتل کے خلاف ان کے اہل خانہ اور علاقہ سے تعلق رکھنے والے خواتین اور بچوں نے ڈپٹی کمشنر کیچ کی آفس کے سامنے مظاہرہ کیا۔ مظاہرین کی قیادت تربت سول سوسائٹی کے کنوینر سید گلزار دوست کر رہے تھے۔مظاہرین نے گزشتہ روز ہیرونک میں نامعلوم افراد کے ہاتھوں قتل کیے گئے دونوں نوجوانوں کے تصاویر اٹھائے ان کے قاتلوں کی گرفتاری کے لیے شدید نعرہ بازی کی۔

مظاہرہ سے تربت سول سوسائٹی کے کنوینر سید گلزار دوست،ماہ رنگ بلوچ اور درا بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہیرونک میں جن دو بچوں کو قتل کیا گیا وہ مڈل کے طالب علم تھے ان کا قتل درندگی کی انتہا ہے۔

مگر افسوسناک بات یہ ہے کہ نہ ان کے قتل کے محرکات معلوم ہوئے اور نا ہی انتظامیہ ان کے قاتلوں کو گرفتار کرسکی ہمیں ابھی تک یہ نہیں معلوم کہ ان دونوں طالب علموں کو کیوں اور کس نے قتل کیا۔ انہوں نے کہاکہ اس یہ دونوں طالب علم تھے اور ان کا کسی سے کوئی لینا دینا اور تعلق نہیں تھا ان کو نامعلوم افراد نے بلاوجہ قتل کر کے لاشیں پھینج دیں اور ابھی تک پتہ نہیں چل سکا کہ قاتل کون تھے۔

انہوں نے کہا کہ انتظامیہ سماج دشمن عناصر کے سامنے سرنڈر کر چکی ہے ان کے سامنے انتظامیہ کا کوئی بس نہیں چلتا ہے۔لوگ خوف اور دہشت کا شکار ہیں جبکہ انتظامیہ نام کی کوئی چیز دکھائی نہیں دیتی۔ انہوں نے کہا کہ فوری طور پر انتظامیہ قاتلوں کا سراغ لگائے۔

اور ان کو گرفتار کر کے سزا دے اگر ایسا نہیں کیا گیا تو انتظامیہ کی بے بسی کے خلاف سخت احتجاج کریں گے۔ بعد ازاں ڈپٹی کمشنر کیچ نے مظاہرین کے وفد کو قاتلوں کا سراغ لگا کر گرفتار کرنے کی یقین دھانی کرائی جس کے بعد مظاہرین منتشر ہوگئے۔