کوئٹہ: کوئٹہ کے قصائیوںنے انتظامی حکام ان سے آئے روز بھاری بھر کم جرمانے وصول کرنے پر اس بات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے نہ صرف ان کے ساتھ غیر مہذبانہ رویہ روا رکھا جارہا ہے بلکہ ان سے بھاری جرمانے بھی وصول کئے جاتے ہیں اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو وہ مجبوراً گوشت کی قیمتوںمیںاضافہ کرنے پر مجبور ہوں گے۔
گزشتہ روز میڈیا نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے قصائیوں نے کہا کہ گزشتہ 2سال سے انتظامی حکام نے ہمارے ساتھ غیر اخلاقی رویہ روا رکھا ہے اور دفاتر میں بلا کر ہم سے بھاری بھر کم جرمانے وصول کئے جاتے ہیں اگر کوئی عذر پیش کی جائے تو ان کے ساتھ غیر مہذبانہ رویہ اپنایا جاتا ہے اسی طرح صفائی کے نام پر بھی میٹرو و دوسرے محکموں کے متعلقہ آفیسران بھی انہیں اپنے دفاتر میں بلا کر بھاری جرمانے وصول کرتے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت بڑی مشکل سے مٹن 11سو روپے کلو اور بیف ساڑھے 6سو روپے کلو فروخت کررہے ہیں جبکہ پنجاب ، سندھ سے مال مویشی بھی نہیں آرہے ۔ انہیںجانوروںکی خریداری کے لئے بھی زیادہ معاوضہ دینا پڑتاہے آئے روز کے جرمانوں اور مہنگے جانوروں کی خریداری سے وہ عاجز آگئے ہیں اگر یہی سلسلہ برقرار رہا تو گوشت کی قیمت میں مزید اضافہ کردیا جائے گا ۔
دوسری طرف شہر میں مہنگائی کا جن بے قابو ہوگیاہے انڈے 220روپے درجن ،مرغی کا گوشت 380روپے کلو فروخت ہورہا ہے اسی طرح مچھلی 5سو 8سو روپے تک فروخت کی جارہی ہے جبکہ سبزیوں اور فروٹ کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کررہی ہیں ۔ سو روپے کلو سے ڈیڑھ سو اور 2سو روپے تک سبزیاں فروخت ہورہی ہیں اسی طرح فروٹ بھی 2سو روپے سے لے کر 3سو روپے کلو تک فروخت کیا جارہا ہے۔
اس صورتحال میں شہریوںمیںبھی تشویش کی لہر پائی جاتی ہے شہریوںکا کہنا ہے کہ انتظامیہ ایک طرف تو دکانداروں پر بھاری جرمانے عائد کئے جارہی ہے دوسری جانب سبزیوں اورپھلوںکے نرخوں کو بھی کنٹرول نہیں کرپارہی۔
پرائس کنٹرول کمیٹی اور مارکیٹ کمیٹی دونوںغیر فعال ہیں انہیںفعال کرنے کی ضرورت ہے اور روزانہ کی بنیادپر پھل اور سبزیوں ،مچھلی ،انڈے اور مرغی کے تگوشت کی قیمتوں کا تعین کیا جائے تاکہ شہریوںکو کم قیمت پر اشیائے خودونوش دستیاب ہوسکے ۔