|

وقتِ اشاعت :   December 19 – 2020

کوئٹہ: صوبائی دار الحکومت کوئٹہ میں سردی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ہی شہر کے بیشتر علاقوں میں سوئی گیس پریشر کی کمی کا مسئلہ سنگین صورتحال اختیار کر گیاگیس نہ ہونے کے باعث جہاں خواتین کو کھانا بنانے سمیت امور خانہ داری نمٹانے میں شدید مشکلات اور پریشانی کا سامنا ہے وہیں بچوں، خواتین اور معمر افراد کی مشکلات بڑھ گئی ہیں کوئٹہ میں سردی کی شدت بڑھتے ہی شہر کے مختلف علاقوں رئیسانی ٹان۔

عارف روڈ، میر احمد خان روڈ، نجم الدین روڈ، کواری روڈ اور ملحقہ علاقوں میں سوئی گیس کا پریشر کم ہو گیاسوئی گیس نہ ہونے کی وجہ سے گھر، فلیٹس، اسپتال اور مساجد سرد خانے بن گئے، گیس نہ ہونے کے باعث جہاں خواتین کو کھانا بنانے سمیت امور خانہ داری نمٹانے میں شدید مشکلات اور پریشانی کا سامنا ہے وہیں بچوں، خواتین اور معمر افراد کی مشکلات بڑھ گئی ہیں شہر کے مختلف علاقوں میں سوئی گیس پریشر میں کمی کے خلاف شہریوں کی جانب سے احتجاج بھی کیا جا رہا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ گیس پریشر نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں کمپریسر کے استعمال پر مجبور کیا جا رہا ہے دوسری جانب سوئی سدرن گیس کمپنی کے حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ بلوچستان کو اس کی ضرورت کے مطابق پوری گیس مل رہی ہے جی ایم سوئی سدرن گیس کمپنی مدنی صدیقی کا کہنا ہے کہ بلوچستان کو اس کی ضرورت کے مطابق 200 ایم ایم سی ایف ڈی گیس مل رہی ہے تاہم کمپریسر کے استعمال سے کئی علاقوں میں سوئی گیس کی کمی کا مسئلہ ہے۔