|

وقتِ اشاعت :   December 20 – 2020

قلات: محکمہ تعلیم قلات میں نان ٹیچنگ پوسٹوں پر میرٹ کے برخلاف بھرتیوں پر آل پارٹیز کی جانب سے تمام ثبوت اکھٹا کرکے نا انصافیوں کے خلاف عدلیہ جانے کا اعلان، جلد اسٹے آرڈر لے کر حقدار امیدواروں کو حق دلانے تک جدوجہد جاری رکھیں گے، اس حوالے سے درخواستیں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کے جمع کرادیئے۔

آل پارٹیز رہنما کی میڈیا کو بریفنگ، تفصیلات کیمطابق بلوچستان نیشنل پارٹی کے ضلعی جنرل سیکرٹری احمد نواز بلوچ نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ قلات میں محکمہ تعلیم میں حالیہ نان ٹیچنگ اسٹاف کو تعیناتی آرڈرز جاری کئے گئے جوکہ میرٹ کے برعکس اور اصل اور حقدار قابل امیدواروں کو جان بوجھ کر بائی پاس کرکے من پسند افراد کو تعینات کیا گیا ان پوسٹوں پر تقریبا 2018 سے درخواستیں جمع کی گئی ہے دو سال سے آرڈرز التوا کا شکار تھے مگر جس پر ابھی بھی حقداروں کی حق تلفی کی گئی۔ اور یہ تمام پوسٹیں بندربانٹ کی نظر ہوگئیں۔

بی این پی سمیت آل پارٹیز نے متاثرہ امیدواروں کے ساتھ ملکر اس میرٹ پامالی کیخلاف اے ڈی سی قلات اور ڈی ای او ایجوکیشن کو تحریری آگاہ کیا۔ جبکہ ان تعیناتیوں میں میرٹ پامالی کے ثبوت جمع کرکے ہم نے عدالت عالیہ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے انہوں نے کہا کہ اقلتی پوسٹ خاکروب جوکہ غیر مسلم کی ہے جس پر بالمیک برادری کا حق ہے اس پر ایک مسلم خاتون کو بھرتی کیا گیا ہے۔

دوسری طرف زمین مالکان کے ساتھ جو معائدے کئے گئے تھے ان زمین مالکان کو بھی نظرانداز کیا گیا ہے جسکی واضح ثبوت گورنمنٹ گرلز ہائی سکول کوئنگ میں کئی سالوں سے راشد نامی شخص بلا معاوضہ بطور چوکیدار ڈیوٹی سرانجام دے رہا ہے جس کے ساتھ تحریری معائدہ کیا گیا تھا کہ جب بھی چوکیدار کی پوسٹ پر بھرتی ہونگی آپ کو تعینات کیا جائیگا مگر اس کی جگہ کسی اور کے آرڈرز جاری ہوئے۔

کلرکس کی پوسٹوں پر کمپیوٹر ماسٹرز اور اعلی تعلیم یافتہ نوجوان امیدواروں کو بائی پاس کرکے کم تعلیم یافتہ امیدواروں کو تعینات کرنا ظلم کے مترادف ہے انہوں نے کہا کہ خواتین لیب اسسٹنٹ کی پوسٹ پر فیمیل امیدوار جوکہ کمپیوٹر میں مہارت رکھتی ہے اور ماسٹر پاس ہے ان کی جگہ گرلز سکولز میں مرد امیدواران کو تعینات کرکے انکی حق تلفی کی گئی ہے اس سے زیادہ میرٹ کی پامالی ہو نہیں سکتی۔ انہوں نے کہا کہ لاکھوں روپے کی جائیداد دے کر زمین مالکان کے ساتھ ناانصافی کی حد ہو چکی ہے انہیں یکسر نظرانداز کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ زمین مالکان کو ملازمت نہ دی گئی جس پر زمین مالکان کسی اور کو اس تعلیمی ادارے میں تعنیاتی کے خلاف ہے اس پر تصادم کا خدشہ ہے اگر ان زمین مالکان کیساتھ جھگڑا ہوا تو زمہ دار اعلی حکام ہونگے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے ان ناجائز اور میرٹ پامالی کیخلاف شواہد اکھٹے کئے ہیں اور قانونی طریقے سے متعلقہ حکام کو تحریری طور پر درخواستیں دیکر انہیں آگاہ کیا ہے اور پریس کانفرنس بھی کی ہے اور باقاعدہ طور پر عدالت عالیہ میں کیس جمع کرینگے انشا اللہ حقداروں کی انصاف دلانے تک جدوجہد جاری رکھیں گے۔