کوئٹہ: پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ آئین ایک فیڈریشن ہے جس میں تمام ا قوام بستے ہیں اگر اقوام سے پوچھا جائے اسٹیبلشمنٹ یا پاکستان چاہیے ہم سب پاکستان کے حق میں ووٹ دینگے اس وطن میں ہمارے آبا واجداد کی قبریں ہیں۔
اور ہمارے بچوں کا مستقبل ہے خدا نخواستہ آئین کو اس سے فارغ کردیا تو ملک کی بنیادیں ہل جائیں گی ہمیں عمران خان سے نہیں ان کو لانے والوں سے مقابلہ کرنا ہوگا ملک کو ان لوگوں کے حوالے کرنا چاہتے ہیں جو صحیح معنوں میں عوام کے نمائندے ہوں ہم اٹامک ملک ہے اور پارلیمان ربڑھ سٹیمپ ہے ان خیالات کااظہار انہوں نے آن لائن سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ مذاکرات فوج کے ساتھ سیاسی معاملات میں بالکل نہیں ہونی چاہیے اسٹیبلشمنٹ بھی اس ملک کا حصہ ہے بد قسمتی سے دنیا جہاں کی فوجیں ہیں وہ بھی لیڈروں سے ملتے ہونگے لیکن دنیا میں یہ قانون ہے۔
جو شخص فوج کا حصہ ہو اس کو سیاست میں مداخلت کا حق نہیں ہے ہمارے آئین سمیت دنیا کا ہر آئین یہی کہتا ہے ان کی اس بات کی وجہ سے آئین ایک مزاق بن گیا ہے آئین ایک فیڈریشن ہے جس میں پشتون بلوچ،سرائیکی،سندھی ،پنجابی بستے ہیں ہم ایک دوسرے کے شہریوں سے دور ہیں اور ایک دوسرے کے ثقافت سے نا واقف ہیں جو چیز نے ہمیں اکھٹا کیا ہے۔
وہ آئین ہے خدا نخواستہ آئین کی فارغ کردینگے تو پاکستان کی بنیادیں ہل جائیں گے انہوں نے کہا کہ سیاسی پارٹیوں نے پیپلز پارٹی کو مسلم لیگ(ن) سے کہا ہے کہ ایور گرین لوگوں کو آئندہ پارٹی میں جگہ نہ دیں جو ہر حکومت کے ساتھ رہے ہیں اور جن کو محمد علی جناح نے کوٹے سکے کہا تھا یہ نیک بخت لوگ محمد علی جناح سے لیکر عمران خان تک ہر اقتدار میں ہوتے ہیں۔
اور جس پارٹی کا موقع آتا ہے اس پارٹی میں شامل ہوجاتے ہیں انہوں نے کہا کہ جن ججوں نے آئین کی خاطر اپنے بچوں کے پیٹ پر لات ماری جن سیاسی کارکنوں نے کھوڑے کھائیں اور جو جرنلسٹ تاریک راہوں میں مارے گئے ان سب کو ان کا حق دینا چاہیے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کا مطالبہ ہے کہ جس جج نے پی سی او کے تحت حلف اٹھا یا تھااس کو ہم نہیں چھوڑیں گے۔
اورآئندہ کی جمہوری حکومتوں کا فیصلہ ہونا چاہیے انہوں نے کہا کہ جاسوسی اداروں کے بغیر کوئی ملک نہیں چل سکتا ہم ان کو سپورٹ کرتے ہیں لیکن کم سے کم سیاست میں مداخلت نہ کریں 30سال سے ہمارے ہونہار جنرل ضائع ہوکر ریٹائرڈ ہوگئے ہیں پہلے ایوب خان نے راستہ روکا ہوا تھا ،کوئی لیفٹیننٹ جنرل سے آگے نہیں بڑھا ریٹائرڈ ہوگئے پھر 10سال تک ضیاء الحق ،پھر 10سال تک پرویز مشرف نے روکا تھا۔
جس سے ہماری فوج کی صلاحیتوں کو کمزور کردیا اور ہم کسی قیمت پر یہ نہیں چاہتے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم عمران خان سے نہیں ان کو لانے والوں سے مقابلہ کرنا ہوگا ہم اس ملک کو ان لوگوں کے حوالے کرنا چاہتے ہیں جو صحیح معنوں میں عوام کے نمائندے ہوں اور یہ کتنی بری بات ہے آپ اپنے بچوں کو کرپٹ کریں ان کے فائل بنائیں ان کووزیراعلیٰ بنائیں پھر ان کو حکومت کے نمائندے بنا کر دنیا ۔
میں بھیجیں یہ بری بات ہے دنیا ایسی نہیں کرتی ہے وہ اپنے بچوں کو وطن کی سبق دیتے ہیں انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی اداروں کو ہماری سپورٹ چاہیے اور یہ کتنی بری بات ہے کہ افغانستان میں 50سال سے ایک جنگ چل رہی ہے اب مذاکرات میں ساری دنیا شامل ہے جب زلمے خلیل زاد پاکستان آتا ہے جہاں اس کوچاہیے تھا وہاں نہیں جاتا ہے ۔
اور کئی اور چلا جاتا ہے ہمارے ملک کا دنیا میں کیا حیثیت ہے ہم ایک اٹامک ملک ہے اور پارلیمان ربڑھ سٹیمپ ہے ہمیں اسٹیبلشمنٹ عزیز ہے کوئی پاگل آدمی ہوگا جو اس آدمی کا عزت نہیں کرے گا جب ملک پر خطرے کے وقت اپنا سر قربان کرے گا جب وہ نیک بخت اپنا کام چھوڑ کر ہماری طرف بھاگے گا وہ خودبرباد ہوگا ملک کے تمام اقوام سے پوچھا جائے۔
اسٹیبلشمنٹ یا پاکستان چاہیے ہم سب پاکستان کے حق میں ووٹ دینگے اسٹیبلشمنٹ ہمیں عزیزہوگی لیکن پاکستان ہمیں سب سے زیادہ عزیز ہے چونکہ پاکستان ہمارا ملک ہے ہمارے آبا واجداد کی قبرستان ہے اور ہمارے بچوں کا مستقبل ہے ۔