|

وقتِ اشاعت :   January 3 – 2021

کوئٹہ: نیشنل ڈیمو کریٹک پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ نے مچھ میں کانکنوں کے قتل کے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ بلوچستان میں بھائی چارے کی فضاء اور امن وامان کو خراب کرنے کیلئے فرقہ وارانہ وارداتیں کی جارہی ہے ،مچھ بلوچستان کے مزدوروں کے حوالے سے دوسرا بڑا شہر سیکورٹی کے نام پر اربوں روپے خرچ کئے جارہے ہیں لیکن امن وامان کی صورتحال میں بہتری نہیں آسکی ہے۔

بلوچستان گزشتہ 40سالوں سے فرقہ واریت کی آگ میں مبتلا ہے اس عذاب سے چھٹکاراپانے کیلئے تمام قوم وطن دوستوں کو متحد ہوکر کرداراداکرناہوگا ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے اپنے جاری کردہ بیان میں کیا۔ڈاکٹرعبدالحئی بلوچ نے سانحہ مچھ میں ہزارہ برادری کے لواحقین سے ہمدردی کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ سانحہ میں متاثرہ اہل خانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں ۔

انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں جگہ جگہ چیک پوسٹوں کی بھر مار ہے اربوں روپے سیکورٹی کے نام پر خرچ کئے جارہے ہیں لیکن امن وامان کی صورتحال میں کوئی بہتری نہیں لائی جاسکی ہے فرقہ واریت کی وباء سے چھٹکارا پانے کیلئے تمام قوم پرست وطن دوست جماعتوں کو متحد ہوکر اپنا بھرپور کرداراداکرنے کی ضرورت ہے ،بلوچستان گزشتہ 40سال سے فرقہ واریت کے آگ میں جل رہاہے۔

دہشتگردی کے واقعات میں کمی کی بجائے اضافہ ہورہاہے لیکن ان میں ملوث کوئی بھی ملزم گرفتار نہیں کیاجاسکاہے ،انہوں نے مطالبہ کیاکہ ان تمام واقعات کی روک تھام کیلئے خصوصی کمیشن تشکیل دیکر ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچائیں ۔

بلوچستان جہاں برادر اقوام امن بھائی چارے کے ساتھ رہ رہے ہیں لیکن آمر ضیاء الحق کے دور سے فرقہ واریت کی وباء پھیل گئی جس سے آج بھی یہاں کے لوگ متاثر ہورہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے بروقت اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے