|

وقتِ اشاعت :   January 5 – 2021

تربت: مکران ڈویڑن کے ضلع کیچ اور گوادر میں یہ بات زدِ عام ہے کہ بلوچستان حکومت کے خالی اسامیوں کی کھلم کھلا خرید و فروخت جاری ہے مکران ڈویڑن بلوچستان میں تعلیم کے اعتبار سے بلوچستان کا سب کا زیادہ علمی اور تعلیمی علاقہ ہے اور سیاسی حوالہ سے بھی مکران ڈویڑن بلوچستان میں سب سے زیادہ باشعور سیاسی کارکنوں کا گڑھ ہے یہاں ہمیشہ بلوچستان کی سیاسی سمت کا تعین ہوتا ہے۔

مگر بدقستمی سے یہ علاقہ کئی دہائیوں سے شدید ترین بے روزگاری اور مالی مشکلات کا شکار ہے مکران کے نوجوان اعلٰی تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود بلوچستان کے باقی علاقوں سے زیادہ بے روزگار ہیں اسلیے پچھلے کئی سالوں سے یہ علاقہ امن دشمن قوتوں کا گڑھ بن کر شورش زدہ بنارہا غیر ملکی قوتیں آسانی سے بے روزگار نوجوانوں کو چند ٹکوں کی خاطر استعمال کرنے میں کامیاب رہے ۔

اور بالاآخر یہ علاقہ علیحدگی پسند تنظیموں کا سب سے مضبوط مورچہ بن گیا مگر باپ سرکار کی آمد سے یہاں لوگوں میں یہ اْمید جاگنے لگی کہ اب شاید محترم جام کمال خان کی سرکار علاقے میں شدید ترین بدامنی سمیت علاقے کے تمام مسائل کے ساتھ ساتھ اہم مسلہ روزگار پر بھی توجہ دیئگی مگر صد افسوس کہ آج دوسال چھ مہینہ گزرنے کے باوجود نوجوانوں کو نوکری ملنا اپنی جگہ اْن کے علاقے کے پوسٹوں کی بندر بانٹ اور خرید و فروخت کا سلسلہ جاری ہے۔

محکمہ پبلک ہیلتھ ،محکمہ انڈسٹری، محکمہ جنگلات سمیت کئی محکموں کے خالی آسامیوں پر علاقے کے منتحب نمائندوں ایم ایز کو نظرانداز کرکے انہیں اندھیرے میں رکھ اپنے من پسند افراد سے پوسٹوں کی خرید و فروحت کا سلسلہ جاری ہے علاقے کے منتحب نمائندوں کو تاریکی میں رکھ کر دوسرے علاقوں کے وزرا مکران ڈویڑن کے خالی آسامیوں کو اس طرح من پسند افراد سے سازباز کرکے نہ صرف علاقے کے حق دار نوجوانوں کا حق مار رہے ہیں۔

بلکہ ایک دفعہ پھر مکران کو پسماندگی اور بے روزگاری میں دھکیل کر وہ بلوچستان کے امن کے ساتھ کھیل رہے ہیں اسلیے مکران کے عوام نے وزیر اعلی بلوچستان سے اپیل کی ہے کہ وہ مکران کے خالی آسامیوں کی اس طرح بندر بانٹ اور خرید فروحت روکنے کیلیے متعلقہ محکموں کے ذمہ داروں اور متعلقہ وزیروں کی اس عوام دشمن منفی ہھتکنڈوں کا نوٹس لیں اور متعلقہ محکمموں سمیت وزرا کو پاپند کریں کہ علاقوں کے منتحب نمائندوں کو اعتماد میں لیکر پوسٹوں کی تشہیر کریں ۔

عوامی حلقوں نے وزیراعلی صاحب سے مطالبہ کیا کہ وہ مکران ڈویڑن کے خالی آسامیوں پر علاقے کے منتحب عوامی نمائندوں کی نظراندازی کا سختی سے نوٹس لیں اور باپ حکومت کے دور میں میرٹ اور انصاف کو یقینی بناہیں۔