|

وقتِ اشاعت :   January 5 – 2021

کوئٹہ: نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماء وسینیٹر میر طاہر بزنجو نے کہاہے کہ ملک میں احتساب کے نام پر حاکم وقت مخالفین کو جیلوں میں ڈال رہے ہیں ،نیب کی میر حاصل بزنجو اور ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ پر الزامات ،آئین ،اسلامی وقومی روایات قطعاََ اجازت نہیں دیتاکہ ہم کسی کی پگڑی اچھالیں ،کردارکشی کریں حکومت انتقامی کارروائیوں کی بجائے۔

اپنی کارکردگی بہتربنائیں ،کمر توڑ مہنگائی اور طوفانی بے روزگاری کوروکنے کیلئے اقدامات اٹھائیں تاکہ قومی اتحاد ویکجہتی پیدا ہوں ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے ایوان بالا میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔نیشنل پارٹی کے سینیٹر میر طاہر بزنجو نے کہاکہ ہم احتساب کے بہت بڑے حامی ہے لیکن البتہ یہ مطالبہ رہاہے کہ احتساب سب کاہوناچاہیے ۔

اگر اراکین پارلیمنٹ ،چیئرمین سینیٹ ،وزیراعظم اپنے اثاثوں کو ڈکلیئر کرتے ہیں تو چیئرمین نیب ،جج اور جرنیلوں کو بھی اپنے اثاثے ڈکلیئرکرنے چاہئیں حقیقت ہے کہ احتساب کے نام پر حاکم وقت مخالفین کو جیلوں میں ڈال رہاہے ،الزامات کی بنیاد لوگوں کو جیلوں میں ڈالاجاتاہے تو چینی اور آٹا کے اسکیموں میں ملوث لوگوں کے علاوہ ان وزراء کو بھی جیلوں میں ڈالاجائے۔

حقیقت یہ ہے کہ وزیراعظم مانے یا نہ مانے اس وقت ملک میں بدترین قسم کی انتقامی کارروائیاں ہورہی ہے ،اب تو ڈپٹی چیئرمین سینیٹ بھی نیب کے زیادتیوں اور ناانصافیوں سے محفوظ نہیں رہے ،مجھے یقین ہے کہ سلیم مانڈی والا کاتعلق پیپلزپارٹی یا مشرف کے باقیات میں سے ہوتا تووہ آج دوسروں کی طرح ترجمان یا وزارت پر براجمان ہوتے۔

تحریک استحقاق لانا ہر رکن پارلیمنٹ کا حق ہے اگر ڈپٹی چیئرمین تحریک استحقاق لاناچاہتے ہیں تومیں سمجھتاہوں کہ حکومتی بینچز کو خوفزدہ نہیں ہوناچاہیے ۔ہماری جماعت کے دوممتاز رہنمائوں میر حاصل خان بزنجو (مرحوم) اور ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ کے خلاف نیب نے جھوٹ پر مبنی مقدمات قائم کئے ،نیب نے دعویٰ کیاکہ ان دونوں نے پنجاب کے 6اضلاع میں اربوں کھربوں کے جائیدادیں بنائی ہیں ۔

نیب نے دعویٰ کیاکہ ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ کی دوسری بیوی اور بچوں کے نام پر بھی جائیداد ہیں ،حقیقت یہ ہے کہ ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ نے صرف ایک شادی کی ہے بچے کہاں سے آگئے۔

،ملک میں آئین ہو یا اسلامی قومی روایات یہ ہم سے کسی کو اجازت نہیں دیتے کہ ہم اپنی خواہشات کے مطابق بزرگوں کی پگڑیاں اچھالیں اور ان کی کردار کے ساتھ میڈیا ٹرائل کریں ،نیب کے الزامات ڈاکٹرعبدالمالک کی بجائے اگر کسی اور پر لگائے جائیں توان کے کیا جذبات ہوںگی ۔حکومت انتقامی کارروائیوں کی بجائے اپنی کارکردگی بہتربنائیں ،کمر توڑ مہنگائی اور طوفانی بے روزگاری کوروکنے کیلئے اقدامات اٹھائیں تاکہ قومی اتحاد ویکجہتی پیدا ہوں ۔