اسلام آباد: شیعہ علماء کونسل پاکستان نے سانحہ مچھ میں ملوث سفاک قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کیلئے جمعہ کو ملک گیر احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ مچھ کے علاقے گیشتری میں ہونیوالے لرزہ خیز سانحہ جس میں گیارہ معصوم بے گناہ محنت کشوں کو ہاتھ پاؤں باندھ کر بے دردی سے قتل کیا گیا، یہ سفاکیت کی بدترین مثال ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔
ہمارا قانون نافذ کرنے والے اداروں سے سوال ہے کہ نیشنل ایکشن پلان، ضرب عضب اور دیگر درجنوں آپریشنز کے بعد بھی وہ کوئٹہ میں ہزارہ قبیلے کے تحفظ اور ملک بھر میں دیگر ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کی روک تھام میں ناکام کیوں ہیں؟،تاحال ایسے واقعات میں ملوث قاتلوں کو گرفتار کیوں نہیں کیا جاسکا؟، بیسیوں قاتلوں کا جتھہ واردات کرکے کیسے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا؟
، قاتل اتنے طاقتور کیوں ہیں؟انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کوئٹہ میں تسلسل کے ساتھ ہزارہ قبیلے کے افراد کا قتل عام کرنیوالوں کیخلا ف فیصلہ کن ٹارگٹڈ آپریشن کیا جائے اور سفاک قاتلوں اور ان کے سہولت کاروں کو قانون کے شکنجے میں جکڑ کر انصاف کے کٹہرے میں لایاجائے۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کی ہدایت پر شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ عارف حسین واحدی نے مرکزی نائب صدر علامہ مظہر عباس علوی، مرکزی سیکرٹری اطلاعات زاہدعلی اخوانزادہ نے شیعہ علماء کونسل شمالی پنجاب کے جنرل سیکرٹری مولانا جعفر حسین نقوی،مولانا غلام قاسم جعفری،،مولانا کو ثر عباس حیدری۔
مولانا وزیر حسین کاظمی، نیئر اقبال بلوچ کے ہمراہ نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ مچھ کے علاقے گیشتری میں ہونے والی لرزہ خیز سانحہ جس میں گیارہ معصوم بے گناہ محنت کشوں کو ہاتھ پاؤں باندھ کر بے دردی سے قتل کرنا سفاکیت کی بدترین مثال ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ علامہ عارف حسین واحدی نے کہاکہ کوئٹہ میں گزشتہ تین روز سے ہزارہ قبیلے کے ہزاروں مرد و زن بچوں اور بوڑھوں کا شدید سردی میں اپنے اپنے شہداء کی۔
میتوں کے ہمراہ دھرنا جاری ہے اور حکمرانوں کی جانب سے ہزارہ کے مظلوم عوام کی اب تک کوئی خاطر خواہ داد رسی نہیں کی گئی جس سے ملک بھر میں مکتب تشیع میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ اس ضمن شیعہ علماء کونسل پاکستان مچھ کے علاقہ گیشتری میں لرزہ خیز واقعہ کے کی شدید مذمت اور خانوادہ شہداء سے اظہار تعزیت و اظہار یکجہتی کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ کوئٹہ میں تسلسل کے ساتھ ہزارہ قبیلے کے افراد کا قتل عام کرنیوالوں کیخلا ف فیصلہ کن ٹارگٹڈ آپریشن کیا جائے۔
اور سفاک قاتلوں اور ان کے سہولت کاروں کو قانون کے شکنجے میں جکڑ کر انصاف کے کٹہرے میں لایاجائے۔ کوئٹہ میں ظلم کی داستان کا یہ عالم ہے کہ”سانحہ مچھ کے باعث ایک خاندان میں میتیں دفنانے کیلئے کوئی مرد تک نہیں بچا“ تکفیری دہشتگرد مائنڈ سیٹ عناصر کی جانب سے منصوبہ بندی کے ساتھ دہشتگردی کے اس واقعہ کو ہائبرڈ وار فئیر کا نام دے کر عوام کو بے وقوف نہیں بنایا جاسکتا۔
پوری دنیا جانتی ہے کہ ایک خاص مائنڈ سیٹ کے لوگ عرصہ دراز سے ملک میں دہشتگردی میں ملوث ہیں۔ ہمارا قانون نافذ کرنے والے اداروں سے سوال ہے کہ نیشنل ایکشن پلان، ضرب عضب اور دیگر درجنوں آپریشنز کے بعد بھی وہ کوئٹہ میں ہزارہ قبیلے کے تحفظ اور ملک بھر میں دیگر ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کی روک تھام میں ناکام کیوں ہیں؟۔
انہوں نے کہا کہ تاحال ایسے واقعات میں ملوث قاتلوں کو گرفتار کیوں نہیں کیا جاسکا اور وہ دندناتے کیوں پھرتے ہیں؟، بیسیوں قاتلوں کا جتھہ واردات کرکے کیسے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا؟۔ انہوں نے کہاکہ قاتل اتنے طاقتور کیوں ہیں؟ سفاک قاتلوں کی جانب سے گیشتری میں 10ہزارہ محنت کشوں کو ہاتھ پاؤں باندھ کر بے دردی سے تیز دھار آلہ سے ذبح کرنے جیسی درندگی اورسفاکیت پر انسانی حقوق کے ادارے۔
مزدور تنظیمیں خاموش کیوں ہے؟ اسی بے حسی کے خلاف قائد ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی کے حکم پر شیعہ علماء کونسل پاکستان کی جانب سے سانحہ گیشتری کیخلاف8جنوری بروز جمعہ بعداز نماز جمعہ ملک گیر یوم احتجاج منایا جائیگا۔
جبکہ یہ احتجاج بین الاقوامی سطح پر بھی ریکارڈ کرایا جائے گا۔انہوں نے کہاکہ اگر ہزارہ قبیلے کے شہداء کے ورثا کے مطالبات کو تسلیم نہ کیا گیا تو یہ پرامن احتجاجی مظاہرے دھرنوں میں بھی تبدیل ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں وہ حالات کو کنٹرول کرے اور ہمیں دھرنوں پر مجبور نہ کرے۔