کوئٹہ/اسلام آباد: چیئرمن فنکشنل کمیٹی برائے کم ترقی یافتہ علاقہ جات سینیٹ آف پاکستان سینیٹر عثمان خان کاکڑ نے پی ایم سی کو ایک ہفتے کے اندر بلوچستان اور فاٹا کے طلبا و طالبات کیلئے 265 میڈیکل سیٹیوں کیلئے نوٹیفکیشن جاری کرنے کی ہدایت کر دی۔
ایوان بالا کی فنکشنل کمیٹی برائے کم ترقی یا فتہ علاقہ جات کے مسائل کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد عثمان خان کاکڑ کی زیر صدارت پارلیمنٹ لاجزمیں منعقد ہوا۔فنکشنل کمیٹی کے اجلاس میں 12اکتوبر 2019کو ایچ ای سی کی طرف سے دی گئی بریفنگ کی روشنی میں سرکاری اور پبلک سیکٹر میڈیکل، یونیورسٹیوں اور کالجوں میں صوبہ بلوچستان کے پسماندہ اضلاع اور سابق فاٹا سے تعلق رکھنے والے طلبہ و طلبات کیلئے موجودہ اور مستقبل کیلئے مختص کردہ سیٹیوں کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔
ایچ ای سی حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ صوبہ بلوچستان کے پسمانددہ اور فاٹا کے علاقے کے بچوں کو میڈیکل کالجز اور یونیورسٹیوں میں سیٹیں 2008 سے دی جا رہی ہیں اور 2016-17میں میڈیکل کیلئے فاٹا اور بلوچستان کیلئے 29سیٹیں تھیں 2017-18میں 165 کر دی گئیں اور 2018-19کیلئے 265سیٹیں ہیں۔ای ڈی ایچ ای سی نے کہا کہ ادارے کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔
ادارہ وظائف دینے کیلئے تیار ہے۔ پی ایم سی نوٹیفکیشن کرے اور عملدرآمد کرانا بھی پی ایم سی کا کام ہے۔جس پر چیئرمین کمیٹی محمد عثمان خان کاکڑ نے چیئرمین پی ایم سی کی کمیٹی اجلاس میں عدم شرکت پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پی ایم سی جب پی ایم ڈی سی تھا تو پارلیمنٹ کی سفارشات پر عملدرآمد ہوجاتا تھا۔ پی ایم سی بننے کے بعدپارلیمنٹ کی سفارشات پر عملدرآمد نہیں کیا جارہا۔
چیئرمین پی ایم سی کو اس مسئلے کے بارے میں 20 دن پہلے تفصیلی آگاہ کیا تھا۔ آج کے کمیٹی اجلاس میں ان کی عدم شرکت ان کی سنجیدگی کا عکاس بتا رہی ہے۔ پی ایم سی کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ فاٹا کے کوٹے کو ڈبل کرنے کے حوالے سے گزشتہ دنوں بھی میٹینگ ہوئی ہیں۔حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ اگر میڈیکل تعلیمی اداروں میں 10 فیصد تک سیٹیوں کا اضافہ کیا جائے تو اس کے دوبارہ انسپکشن ضروری ہوتی ہے۔
جس پر چیئرمین کمیٹی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکام بغیر تیاری کے کمیٹی اجلاس میں شرکت کرتے ہیں یہ مختلف ایجنڈا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ہفتے کے اندر پی ایم سی صوبہ بلوچستان اور فاٹا کے علاقوں کے طلبا و طالبات کیلئے میڈیکل سیٹیوں کا اہتمام کرے۔ ایچ ای سی وظائف دینے کو تیار ہے اگر فنکشنل کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔
تو چیئرمین پی ایم سی کے خلاف معاملہ استحقاق کمیٹی کو بھیجا جائے گا۔ فنکشنل کمیٹی نے چیئرمین پی ایم سی کی کمیٹی اجلاس میں عدم شرکت پر نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ بھی کیا۔ پارلیمانی سیکرٹری برائے وفاقی تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت وجیہہ اکرام نے کہا کہ بلوچستان اور فاٹا کے پسماندہ علاقوں کے طلبا وطالبات کو سہولیات دینا ہمارا فرض ہے۔
ان علاقوں کے بچوں نے پہلے ہی پسماندہ علاقے ہونے کی وجہ سے سہولیات سے محروم ہے۔ان کو آگے لا کر بہتری لائی جا سکتی ہے۔کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹرز سردار محمد شفیق ترین، مولوی فیض محمداور نصرت شاہین کے علاوہ وفاقی پارلیمانی سیکرٹری وزارت تعلیم مس وجیہہ اکرام، سیکرٹری تعلیم،ای ڈی ایچ ای سی، ممبر پی ایم سی ا ور دیگر اعلی حکام نے شرکت کی۔