کوئٹہ: ایران کے کونصلر جنرل حسن گولیوند د رویشند نے ایک وفد کے ہمراہ ہ جامعہ بلوچستان کا دورہ کیا۔ وفد نے جامعہ کے وائس چانسلرپروفیسر ڈاکٹر شفیق الرحمان سے ملاقات کی۔اس موقع پر دیگر بھی موجود تھے۔ ملاقات کے دوران پاک ایران تعلقات ، تعلیمی ، تحقیقی سرگرمیوںکے مشترکہ فروغ، دو طرفہ تعلقات ، مستقبل کے تعلیمی سرگرمیوں کو پروان چڑھانے سمیت معاملات اور مختلف امور پرتبادلہ خیال کیا گیا۔
جامعہ کے وائس چانسلر نے ایرانی کونصل جنرل کے جامعہ آمد پر خوش آمدید کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں کے درمیان بہتر تعلقات ، تعاون و اشتراک عمل دور حاضر تقاضوں کی ضرورت ہے ۔ اور جامعہ بلوچستان نے ایران کے مختلف اعلیٰ تعلیمی اداروں کے ساتھ تعاون و باہمی سمجھوتوں کو یقینی بنایا ہے اور مستقبل میں بھی مختلف تعلیمی منصوبوں کو مشترکہ طور پر پروان چڑھایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کی ترقی اور تیزی سے بڑھتی ہوئی دنیا کی صورتحال نے تعلیمی زرائع کو اکثر تبدیل کردیا ہے۔ اور دنیا ڈیجیٹل تعلیمی سرگرمیوں کی جانب گامزن ہے ۔ اور خاص کر کووڈ 19کے وباء کے بعد تعلیمی ، تحقیقی سرگرمیوں اور تعلیمی نظام میں از سر نو پالیسیاں ترتیب دیئے جارہے ہیں۔ اور ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بھی اعلیٰ تعلیم و معیاری تعلیم کو اپنے معاشروں کی ترقی اور کارآمد انسانی وسائل کی دریافت میں بروء کار لائیں۔
پاک ایران دو اہم اسلامی ممالک ہیں۔ جو تعلیمی ، تحقیقی سرگرمیوں سمیت مختلف شعبوں میں ایک دوسرے کے تعاون و اشتراک عمل سے استفادہ کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مختلف موضوعات پر مشترکہ طور پر کانفرنسز ، سیمینار،تربیتی سرگرمیوں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کے مابین بہتر تعلقات کو فروغ دیا جائے گا۔اس موقع پر ایران کے کونصل جنرل نے جامعہ کے تعلیمی خدمات کو سرہاتے ہوئے کہا کہ جامعہ بلوچستان ایک قدیمی اور اعلیٰ تعلیمی درسگاہ ہے۔
جہاں ایران اور پاکستان کے مختلف شعبوں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات استوار ہیں۔جہاں تعلیمی و تحقیقی سرگرمیوں کو بھی اہمیت اور ترقی سے ہمکنار کرنے کے لئے مشترکہ طور پر اقدامات کئے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صوبہ بلوچستان ایران کے قریب اور مختلف علاقوں پر سرحدیںایک دوسرے کے ساتھ منسلک ہونے کی وجہ سے ہمیں زیادہ سے زیادہ مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔
اور جامعہ بلوچستان کے ساتھ مشترکہ طور پر تعلیمی و تحقیقی سرگرمیوں سمیت ترقیاتی منصوبوں اور مستقبل کے پروگرامزکو ترتیب دیئے جائیں گے۔ کیونکہ کسی بھی معاشرے کی ترقی اور بہتری کے لئے تعلیمی ادارے اہم کردار اداکرتے ہیں۔آخر میں دونوں جانب سے کتب اور اعزازی شیلد کا تبادلہ خیال کیا گیا۔