کوئٹہ: جھالاوان عوامی پینل کے رہنماءمیر ابرار جان مینگل اور سردار زادہ میر شہزاد غلامانی نے کہا ہے کہ جھالاوان عوامی پینل کی مقبولیت سے خائف جماعت کے لوگ بے بنیاد الزامات لگارہے ہیں، میر شفیق الرحمٰن مینگل پر الزامات لگانااپنے کرتوتوں پر پردہ ڈالنے کے مترادف ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر میر فدا احمد قلندرانی ، نیاز احمد گرگناڑی اور میر خالد نصیر گرگناڑی بھی موجود تھے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی کے فلور پر قوم پرست جماعت کے رکن کی جانب سے میر شفیق الرحمٰن مینگل کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے والے اپنے گریبان میں جھانکیں ، بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں کراچی جے آئی ٹی کے حوالے سے میر شفیق الرحمٰن مینگل کا نام لینا بدنیتی پر مبنی ہے جس رپورٹ کا حوالہ دیا گیا اس میں کالعدم تنظیموں کے کیمپ وڈھ میں ہونے کی بات کی گئی تھی اور دنیا جانتی ہے کہ اس کالعدم تنظیم کا سربراہ کون ہے۔
انہوں نے کہا کہ اداروں پر الزام لگانے والے بتائیں کہ جب مذکورہ قوم پرست جماعت کے سربراہ وزیراعلیٰ تھے تو ان کے دور میں لیویز فورس میں بھرتی ہونے والے 117 اہلکاروں کا تعلق مختلف کالعدم تنظیموں سے کیسے نکلا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وڈھ اور خضدار میں جن بے گناہ اساتذہ کو دہشت گردوں نے مارا گیا۔
اس میں کالعدم تنظیم سر فہرست ہے ، انہی لوگوں نے بلوچ قوم کو ورغلایا اور غلط راستے پر لے گئے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ مذکورہ قوم پرست جماعت پرپابندی لگانے کے ساتھ حکومت انکے فنڈز سے ہونے والے ترقیاتی کاموں کی باقاعدہ تحقیقات کرے۔