خضدار: جھلاوان عوامی پینل کے سربراہ ممتاز قبائلی رہنما سربراہ میر شفیق الرحمن مینگل نے کہا ہے کہ بلوچستان میں 2006 جیسی صوررتحال پیدا کرنے کی مذموم کوشش کی جارہی ہے بلوچستان میں بنیادی سہولتوں کا شدید فقدان ہے بلوچستان میں پانی نہیں ہے ڈیمز بنانے کی ضروت ہے مقامی زمینداروں بجلی کو مفت فراہم کی جائے تعلیم اور صحت کی سہولتیں 80 فیصد نہیں ہیں ۔
بلوچستان ایجو کیشن اور ہیلتھ کے شعبوں میں فوری اور انقلابی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ، بلوچستان کے قد آور سنجیدہ قبائلی زعما اور ا س سرزمین کے خیر خواہ بلوچستان کے وسیع تر مفاد یہاں کے قبائلی روایات کو دہشت گردی کی نظر ہونے سے بچانے کے لئے اور دہشت گرد ہندو ستانی ایجنسی را کے حوالے سے اپنا متفقہ رد عمل سامنے لائیں نا عاقبت اندیش نام نہاد قوم پرست جماعتیں ہندوستان اور را کی زبان بو لنے لگے ہیں ۔
ان خیالات کا اظہار میر شفیق الرحمن مینگل اپنی رہائش گاہ پر قبائلی زعما ء سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا قوم پرستی کے نام نہاد لبادہ کو اوڑھنے والوں کی وجہ سے بہت سے دل خراش واقعات رونما ہوئے اور یہ واقعات پریشان کن ہیں میر شفیق الرحمن مینگل نے مزید کہا کہ حکومت کی جانب سے بلوچستان کے ضروری مسائل حل کرنے کے لئے فوری اقدمات کئے جائیں ۔
بلوچستان میں نہری نظام نہیں اس لئے بارش کے پانی کو محفوظ بنانے کے لئے یہاں پر ڈیمز بنائے جائیں جبکہ زمینداری کے لئے پانی کی حصول بجلی پر منحصر ہے حکومت وقت زمیندارون کے لئے بجلی کی فراہمی مفت کردے بلوچستان میں نا خواندگی 90 فیصد ہے حکومت بلوچستان میں تعلیمی نظام کو بہتر بنانے پرائمری اور سیکنڈری ایجوکیشن کے ادارے ہر تحصیل و ضلع میں قائم کردے ۔
بلوچستان میں صحت کے سہولتوں کا فقدان ہے بنیادی مراکز صحت نہیں ہیں اگر ہیں تو ان میں دوائیاں نہیں عملہ نہیں حکومت فوری طور پر لوگوں کو صحت کی بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کا اقدام کرے یہ وہ تمام تر اقدمات ہیں جن پر عمل کرنے کے بعد بلوچستان کے لوگ اطمینان کا سانس لیں گے اور دہشت گردوں کے عزائم بھی ناکام ہونگیں ۔