کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہاہے کہ سی پیک کے پہلے فیز میں بلوچستان کویکسر نظرانداز کیاگیا گزشتہ 5سالو ں میں بہت بڑا جمود پڑا وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے بلوچستان میں انفراسٹرکچر، کاروباری مواقعوں ،صنعتی علاقوں کی تعمیر وترقی اور صوبے کے ملک کے دوسرے حصوں سے جوڑنے کیلئے ٹھوس اقدامات نہیں اٹھائے ،ماضی کی بنسبت حالیہ برسوں میں امن وامان کی صورتحال میں بہت زیادہ بہتری آئی ہے۔
حکومت بلوچستان نے وفاق کے ساتھ ملکر 7سو ارب روپے سے زائد منصوبوں کی منصوبہ بندی کی ہے بلکہ ایسے علاقوں کی نشاندہی کی ہے جہاں انفراسٹرکچر کے ساتھ بارڈرمارکیٹس،صنعتی زونز جہاں سی پیک کے تحت سرمایہ کاری کو فروغ دیاجاسکے علیحدگی پسند لوگ ذاتی مفادات کیلئے نظام توڑنے اور قوم پرست جو اپنے علاقے اور لوگوں کیلئے بہترسہولیات چاہتے ہیں ۔
ان خیالات کااظہار انہوں نے گلف نیوز کو دئیے گئے انٹرویو میں کیا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہاکہ قوم پرست اور علیحدگی پسند دو طرح کے لوگ ہیں ہر دوسرے پاکستانی کی طرح ہر بلوچ ایک قوم پرست ہے وہ جو اپنے علاقے اور لوگوں کے لئے بہترین چاہتے ہیں۔جبکہ علیحدگی پسند وہ لوگ ہیں جو اپنے مفادات کے لئے کسی نظام یا کسی علاقے کو توڑنے کا ایجنڈا رکھتے ہیں۔
وقتا فوقتا وہ قوم پرستوں کو بھی متاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہماری توجہ ان لوگوں کے مسائل کے حل پر ہے جو اپنی مادر وطن سے محبت کرتے ہیں اور انہیں اپنی بنیادی ضرورتوں کی تکمیل سے محروم رکھا گیا ہے ،انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں امن وامان کا مسئلہ سنگین رہاہے پچھلے کئی سالوں کے مقابلے میں حالیہ برسوں میں یہاں امن وامان میں بہت بڑی بہتری آئی ہے۔
ہزارہ برادری بلوچستان کا ایک حصہ ہے ، اور سب کی حفاظت ہمیشہ سے ہماری اولین ترجیح رہی ہے۔ کچھ مخصوص علاقوں اور کمیونٹیز کی حساسیت کے پیش نظر ہم نے اپنے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مجموعی صلاحیت کو بہتر بنایا ہے۔ پولیس اور لیویز کے محکموں میں قانون سازی اور سرمایہ کاری کا ایک بہت بڑا کام ہوا ہے۔ امن و امان کیلئے بہتر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مضبوط بنانے کے لئے اقدامات اٹھائے گئے ہیں ۔
جن میں شہرکومحفوظ ، لیویز فورس میںاصلاحات ، پہلی بار نئے لیویز یونٹ ، اے علاقوں میں توسیع ، انسداد دہشت گردی کے محکمے میں توسیع ، ساحل سکیورٹی پلان ، کوئٹہ سیف سٹی سمیت دیگر شامل ہیں ،انہوں نے کہاکہ بدقسمتی سے جب سی پیک کا مرکزی اقدام اٹھایا گیا تھھا تو 2013سے 2018ء کے دوران بہت بڑا جمود پڑا اس وقت کے صوبائی اور وفاقی حکومتوں نے انفراسٹرکچر، کاروباری مواقع ۔
صنعتی علاقوں کی تعمیر وترقی ،بلوچستان کو پاکستان سے جوڑنے کے معاملے پر کوئی ٹھوس منصوبہ بندی نہیں بنائی گئی جس کے ذریعے بلوچستان کے عوام کو فائدہ ملتا ،پانچ سال بغیر منصوبہ بندی اور غیر منطقی انداز میں گزارے گئے اور سی پیک کے پہلے فیز میں ہم بنیادی ترقی کے حصہ نہیں تھے اور نہ ہی انفرا سٹرکچر کے حوالے سے بلوچستان کو کوئی بڑا منصوبہ ملا جس طرح پاکستان کے دیگر حصوں میں بڑے منصوبے دیکھنے کو ملتے ہیں ۔
جس کی تمام تر ذمہ داری اس وقت کی وفاقی حکومت پرعائد ہوتی ہے ،انہوں نے کہاکہ سی پیک کامنصوبہ دوسرے مرحلے میں داخل ہواہے آج بہت سے علاقوں میں کاروباری مواقع موجود ہیں کاش پچھلی حکومت نے بنیادی ڈھانچے کی اہمیت پر توجہ دی ہوتی۔ اگر بلوچستان میں بنیادی ڈھانچہ ،مواقعوں تک رسائی، بجلی ، گیس اور دوسری سہولیات ہوتی تو سرمایہ کاروں کو راغب کیاجاسکتا تھا۔
انہوں نے کہاکہ حکومت بلوچستان وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر صوبے میں انفراسٹرکچر سمیت دیگر سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ترقی کے پیدا ہونے والی خلاء کو پر کررہے ہیں انہوں نے کہاکہ ہم نے وفاقی حکومت کے اشتراک سے 7سے 8سو ارب روپے سے زیادہ کی منصوبوں کی منصوبہ بندی کی ہے ،ہم نے ایسے علاقوں کو تلاش کیاہے ۔
جہاں بنیادی ڈھانچے کے ساتھ ساتھ بارڈر مارکیٹس،صنعتی زونز ،ماربل کانکنی زونز کے علاوہ معاشی اور زرعی شعبے کو فروغ دیاجاسکے جس کے ذریعے سی پیک کے کاروباری مواقعوں کے ذریعے سرمایہ کاروں کو راغب کرنے میں مدد ملے گی ۔