|

وقتِ اشاعت :   February 4 – 2021

راجن پور: بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں “راجن پور اور تونسہ شریف کو یونیورسٹی دو ” تحاریک کی بھرپور حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ڈی جی خان ڈویڑن جو کہ پچاس لاکھ سے زائد نفوس پر مشتمل ہے جن میں تین ڈسٹرکٹ راجن پور، تونسہ شریف اور ڈی جی خان آتے ہیں پچھلے کئی دہائیوں سے حکومت کی جانب سے ڈی جی خان کے عوام اور طلباء و طالبات کو اعلیٰ تعلیمی سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے۔

پرائمری اسکولوں سے لے کر اعلی تعلیمی اداروں کی حالت ابتر ہے ، کہیں اسکول موجود نہیں تو کہیں اسکول کے انفراسٹرکچر اور اسٹاف میسر نہیں ہے۔ کالجز صرف طلباء کو ایڈمشنز دینے تک محدود ہیں، واحد جامعہ غازی بھی خستہ حالی کا شکار ہے، تونسہ شریف اور راجن پور میں یونیورسٹیز کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔ترجمان نے مزید کہا کہ ڈی جی خان، راجن پور اور تونسہ شریف میں پرائمری سے لے کر اعلی تعلیمی صورتحال نہایت ابترناک ہے۔

قبائلی علاقوں کے لوگ بنیادی تعلیمی حقوق سے محروم ہیں. بڑی تگ و دود کے بعد اعلیٰ تعلیمی سہولت کیلئے 2012 ء میں ڈی جی خان ڈویڑن کیلئے واحد غازی یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا گیا جو کہ دس سال گزرنے کے باوجود کھنڈرات کا منظر پیش کرتا ہے. جامعہ غازی میں طلباء کوہاسٹل، ٹرانسپورٹ، کلاسز رومز اور دیگر بنیادی سہولیات میسر نہیں ہیں۔

ڈی جی خان، راجن پور اور تونسہ شریف کے طلباء میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے بعد اعلی تعلیمی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے اکثر تعلیم ترک کرنے پر مجبور ہوتے ہیں، اکثر طالبعلم متوسط گھرانوں سے تعلق رکھنے کے سبب دوسرے شہروں میں موجود تعلیمی اداروں کے اخراجات کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتے ہیں ان علاقوں میں شرح خواندگی کو بڑھانے اور نوجوان نسل کو علم کی روشنی سے منور کرنے کیلئے حکومت کو فوراً اقدامات اٹھانے چاہیں۔

راجن پور اور تونسہ شریف میں یونیورسٹی کا قیام وقت کی اہم ضرورت اور عوام کا ایک درینہ مطالبہ ہے۔ مرکزی ترجمان نے “راجن پور اور تونسہ شریف کو یونیورسٹی دو” تحاریک کی بھرپور حمایت کا اعلان کرتے ہوئے حکومت پنجاب سے مطالبہ کیا کہ راجن پور اور تونسہ شریف میں یونیورسٹیز کی منظوری دے کر جلدازجلد جامعات پر کام شروع کیا جائے، بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی جامعات کے قیام کیلئے جاری کمپین کی بھرپور حمایت کرتی ہے اور تنظیم تمام پلیٹ فارمز پر ایک موثر آواز بن کر جدوجہد کرے گی۔