|

وقتِ اشاعت :   September 27 – 2021

کوئٹہ: بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ انکی تنظیمی ساتھی بانک ہانی بلوچ جوکہ سردار بہادر خان وومن یونیورسٹی میں انگلش لٹریچر کی اسٹوڈنٹ تھیں، انکی 24 ستمبر کی شام کو فوتگی ہوئی ہے، جوکہ بی ایس او سمیت تمام طلبا کیلئے صدمہ انگیز خبر ہے۔ بانک ہانی بلوچ طلبہ سیاست میں انتہائی اہم کردار ادا کر رہی تھیں۔

بالخصوص پاکستان میڈیکل کمیشن کے خلاف جاری طلبا کی تحریک کو منظم کرنے میں انکا کلیدی کردار تھا۔ 23 ستمبر کے گرینڈ ریلی میں وہ فرنٹ لائن پر متحرک نظر آئیں اور ساتھیوں کا حوصلہ بڑھاتی رہیں۔مرکزی ترجمان نے وضاحت دی ہے کہ بانک ہانی بلوچ کی طبیعت پہلے سے ناساز تھی، مگر جدوجہد کو اولیت دیتے ہوئے انہوں نے اپنی صحت کا پرواہ کیئے بغیر ریلی میں متحرک رہیں۔ شام کے وقت جب ساتھیوں نے انکی طبیعت زیادہ خراب پایا تو انہیں زور دے کر گھر بھیج دیا۔

جس کے بعد رات گئے پولیس کی لاٹھی چارج اور گرفتاریاں ہوئیں۔ جس سے متحرک ساتھیوں کا قید ہونے سے ہانی بلوچ سے دوبارہ رابطہ منقطع ہوا اور کل ساتھی جب رہا ہو کر واپس آئے ہیں تو انہوں نے ایک دوسری کی خبر دریافت کی ہے جس سے یہ دردناک خبر سامنے آئی ہے کہ ھانی بلوچ طبیعت کی زیادہ خرابی کی وجہ سے اس جہاں سے کوچ کر گئی ہیں۔بانک ہانی کی ناگہانی وفات سے طلبا سوگ میں مبتلا ہیں۔ مگر انکے مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے ساتھی پرعزم ہیں۔ وہ طلبہ تحریک کی نڈر رہنما تھیں، ہم انہیں انکی راجی خدمات پر سرخ سلام پیش کرتے ہیں۔

دریں اثناء صوبائی وزیر داخلہ میر ضیائاللہ لانگو نے سردار بہادر خان وویمن یونیورسٹی کی طالبہ ہانی بلوچ کے ناگہانی انتقال پر گہرے دکھ و  افسوس کا اظہار کیا ہے  وزیر داخلہ نے مرحومہ کے  خاندان سے اظہار تعزیت  اور ان کے درجات کی بلندی کے لیے دعا بھی کی وزیر داخلہ نے مرحومہ ہانی بلوچ  کے کزن اور طلباء تنظیم  کے رہنماؤں کی جانب سے جاری کردہ بیان میں ان کے طبعی موت  کی حوالے سے وضاحتی بیان کو ذمہ دارانہ قرار دیا۔ اس بیان پر رد عمل دیتے ہوئے اپنے ایک جاری بیان میں کہا ہے کہ مرحومہ ہانی بلوچ کی وفات کی خبر کو غلط رنگ دیا گیا اور گزشتہ کئی گھنٹوں سے مرحومہ کی موت کو سیاسی اداکاروں نے منفی رنگ دینے اور اپنی کھوئی ہوئی ساکھ کو بحال کرنے کے لیے استعمال کیا۔ اس تردیدی بیان نے ان کی طرف سے لاشوں کی سیاست کو دفن کر دیا جس کی وجہ مسلسل قوم کو ہیجان مبتلا رکھا گیا جو کہ نہایت افسوسناک عمل ہے۔

وزیر داخلہ کا مزید کہنا تھا کہ کہ سیاسی اداکار صوبائی حکومت اور اداروں پر ہمیشہ کی طرح الزام تراشی سے بعض نہیں آتے ہیں وقت آگیا ہے کہ ہم سب ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے منفی پروپیگنڈے اور دشمن کی چال بازیوں سے ہوشیار رہیں تاکہ وہ ہمیں آپس میں لڑانے میں ہمیشہ کی طرح ناکام رہیں گے۔دریں اثناء ہانی بلوچ کی مبینہ موت پر محکمہ پولیس کا موقف سامنے آگیا۔بلوچستان پولیس کے ترجمان نے جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ ہا نی بلوچ کی موت قدرتی ہے پولیس لاٹھی چارج کا اس سے کوئی تعلق نہیں مبینہ طور پر ہانی بلوچ اس وقت ٹی اینڈ ٹی چوک میں صبح 1 بجے موجود نہیں تھی جب پولیس نے طلباء کو منتشر کیا ۔

ہانی بلوچ نے جمعہ کی صبح پولیس کو یا کسی اور کو کسی چوٹ کی اطلاع نہیں دی۔ کچھ شرپسندوں نے اسے بنیاد بنا کر بے بنیاد پروپیگنڈا کرنے کی کوشش کی ہے ۔ اس پروپیگنڈے کی کوشش کو ہر سطح پر رد کیا جائے گا۔ہانی بلوچ بلوچستان اسٹوڈنٹ آرگنائزیشن کی رکن و لاپتہ افراد کیس میں بھی سرگرم تھیں۔