گوادر: گوادر کے ادبی و سماجی شخصیات نے اپنے مشترکہ اخباری بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ گوادر شہر کے اندر زمین دستیاب ہوتے ہوئے بھی ریڈیو پاکستان گوادر کی بلڈنگ کو 35کلومیٹر دور تعمیر کرنا سراسر نا انصافی اور یہاں کے فنکاروں کے خلاف سازش ہے تاکہ مقامی لوگ ریڈیو کے پروگراموں میں بہرآور نہ ہوسکیں جسکی وجہ سے ریڈیو کے مقامی پروگرام ختم کرکے اسلام آباد سے قومی پروگرام نشر کیے جاسکیں۔
انھوں نے کہا کہ ایک پروگرام کمپئیر یا اناؤنسر کو مہینے میں زیادہ سے زیادہ 12 یا 14دن کے پروگرام ملتے ہیں جس کے معاضے صرف پانچ ہزار ہونگے۔جب اسٹیشن کو شہر دور 35کلومیٹر کے فاصلے پر تعمیر کیا جاتا ہے تو یہ معاضے صرف فکاروں کی آنے جانے میں خرچ ہوتے ہیں۔ گوادر کے مقامی فنکار پہلے ہی سے مالی تنگ دستی کی وجہ سے پریشانی میں مبتلاء کو ہوکر رہ گئے اور انکے لئے گھربار چلانا مشکل ہے۔
آخر میں انھوں نے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات،سیکریٹری اطلاعات و نشریات،ڈائریکٹر جنرل ریڈیو پاکستان اور گوادر کے سیاسی نمائندگان میرحمل کلمتی اور کہدہ بابر سے گزارش کی ہے کہ ریڈیو پاکستان گوادر کی نئی عمارت کو 35کلومیٹر کے بجائے شہر کے اندر تعمیر کرانے کیلئے اقدامات کریں۔