|

وقتِ اشاعت :   March 31 – 2022

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان اس وقت فیصلہ کن موڑ پر آ گیا ہے۔اتوار کو ملک کا فیصلہ ہو گا۔ فیصلہ ہو گا کہ ہم نے کس طرف جانا ہے، سب جانتے ہیں کہ آخری گیند تک مقابلہ کرتا ہوں۔ اتوار کو دیکھوں گا کہ کون کون اپنے ضمیر کا سودا کرتا ہے۔

قوم سے خطاب میں انہوں نے اتوار کو عدم اعتماد کا سامنا کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ چوری کے پیسے سے ارکان کو خریدا جا رہا ہے،
میریٹ اور سندھ ہاؤس میں یہ تماشا چل رہا ہے، کوئی چھپی بات نہیں ہے سب کچھ قوم کے سامنے ہو رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آصف زرداری، نواز شریف اور شہباز شریف نظریاتی لوگ نہیں،سب جانتے ہیں، یہ صرف اور صرف ضمیروں کا سودا ہو رہا ہے،  مجھے ابھی بھی اپنے لوگوں سے امید ہے، ان سے کہتا ہوں لوگوں نے کبھی آپ کو بھولنا نہیں، آپ پر ہمیشہ کیلئے مہر لگ جائیگی، کوئی آپ کو معاف نہیں کریگا۔

عمران خان نے کہا کہ یہ لوگ موجودہ دور کے میر صادق اور میر جعفر ہیں، یہ آپ وہ کرنے جا رہے ہیں جس پر آنے والی نسلیں بھی معاف نہیں کریں گی۔ قوم کو کہنا چاہتا ہوں ایک ایک چہرہ یاد رکھنا۔ میری زندگی کو کوئی فرق نہیں پڑیگا، جب تک خون ہے اس سازش کے خلاف لڑتا رہوں گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اتوار کو قوم کے ساتھ غداری ہونے جا رہی ہے، قوم یہ نہیں بھولے گی نہ انہیں معاف کریگی، کوئی خوش فہمی میں نہ رہے کہ عمران خان چپ کر کے بیٹھ جائیگا۔

وزیراعظم نے کہا کہ نوازشریف نے اپنے دور میں 18 فیکٹریاں بنا لیں تھیں، میں نے تو کوئی فیکٹری نہیں بنائی۔

خطاب کے آغاز میں انہوں نے کہا کہ میرے پاکستانیو میں نے آپ سے بہت اہم بات کرنی ہے، اس لیے میں نے براہِ راست خطاب کرنے کا فیصلہ کیا ہے، پاکستان اس وقت فیصلہ کن وقت پر ہے، ہمارے پاس دو راستے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس ہے کہ کونسے راستے پر جانا ہے، سیاستدانوں کی زندگی دیکھیں تو ان کو پہلے کوئی نہیں جانتا تھا، قائداعظم محمد علی جناحؒ بہت بڑے سیاستدان تھے، سارے ہندوستان میں سب سے بڑے وکیل سمجھے جاتے تھے، ان کی حیثیت تھی سیاستدان میں آنے کی، ہمارے ہاں سیاستدانوں کو ماضی میں کوئی نہیں جانتا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ  مجھے اللہ نے سب کچھ دیا، شہرت دی، ضرورت سے زیادہ پیسہ دیا، لیکن میں پاکستان کی پہلی نسل تھا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان مجھ سے صرف پانچ سال بڑا ہے۔ میرے والدین غلامی کے دور میں پیدا ہوئے تھے، میرے والدین مجھے احساس دلاتے تھے کہ تم بہت خوش قسمت ہو۔

عمران خان نے کہا کہ پرویز مشرف دور میں مجھ سمیت تمام سیاستدانوں کو بریفنگ دی جس میں کہا گیا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں نہ گئے تو امریکا ہمیں پتھر کے دور میں بھیج دے گا لیکن میں نے اس وقت بھی اس جنگ کے خلاف بیان دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ کیا ہم اپنے لوگوں کو قربان کروائیں۔ 80ء کی دہائی میں ساری جہاد قبائلی علاقوں میں لڑی گئی۔ ہمیں بتایا گیا کہ افغانستان میں غیر ملکی قبضہ ہو رہا ہے جس کے لیے ہم انہیں بچانا چاہتے ہیں، جنگ ہارنے کے بعد امریکا نے ہم پر پابندیاں لگا دیں۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس دوران پاکستانیوں نے بہت قربانیاں دیں، اس دوران کسی بھی ملک نے اتنی قربانیاں نہیں دیں۔ قبائلی علاقہ پاکستان میں سب سے زیادہ پر امن علاقہ تھا، وہاں پر جرائم نہیں ہوتے تھے، وہاں پر دہشتگردی کیخلاف جنگ شروع کی گئی، ہمارے لوگ مارے گئے۔

مزید کہا کہ ہمارے لوگوں نے جہاد سمجھ کر پاکستان کیخلاف جنگ لڑنا شروع کر دی۔ پرانا جہادی بھی پاکستان کیخلاف ہو گئے۔ نائن الیون میں کوئی پاکستانی شامل تھا۔

ہمیں کہا گیا کہ پاکستان کی دوغلی پالیسی کی وجہ سے امریکا افغانستان نہیں جیت پا رہا، ڈرون اٹیک ہوئے بہت نقصان ہوا، باجوڑ میں مدرسے کے بچوں پر ڈرون اٹیک ہوئے جس میں 80 بچے شہید ہوئے، دیگر علاقوں میں شادیوں پر بھی ڈرون حملے کیے گئے۔

میں جب کہتا تھا یہ جنگ ہماری نہیں تو لوگ ہمیں طالبان خان کہتے تھے، میں نے وزیرستان مارچ کیے، امریکا سمیت باہر سے لوگوں نے میرے مارچ کی حمایت کی۔

ہماری حکومتوں نے امریکا کا ساتھ دیا جس کے باعث وہ ہم پر حملہ کرتے تھے، مجھے حکومت ملی تو میں نے پہلے دن کہا تھا پاکستان کی پالیسی عوام کے مفاد میں ہو گی اور یہ پالیسی آزاد ہو گی۔ میری پالیسی، بھارت سمیت کسی کے خلاف نہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ سب سے بڑا شرک پیسے کی پوچا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ قوم کو کسی کی غلامی نہیں کرنے دوں گا، نہ خود جھکوں گا اور نہ قوم کو جھکنے دوں گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم تمام ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنا چاہتے ہیں۔ ہمیں 7 مارچ کو یا اس سے پہلے امریکہ یا کسی اور باہر کے ملک سے خط موصول ہوا۔

انہوں نے کہا کہ دھمکی آمیز خط میں کہا گیا ہے کہ اگر عمران خان وزیراعظم رہتا ہے تو پاکستان کے لیے مشکلات ہوں گی، اگر عدم اعتماد کامیاب ہو گئی تو تمام مشکلات ختم کر دیں گے۔