|

وقتِ اشاعت :   July 14 – 2022

سائنس دانوں نے پاکستان کو دريائے سندھ کا ماڈل تبديل کرکے بجلی سستی کرنے اور زرمبادلہ ذخائر بڑھانے کی تجويز دے دی۔

یہ تحقیقاتی رپورٹ کیپیٹل یونیورسٹی اینڈ ٹیکنالوجی اسلام آباد،وکٹوریہ یونیورسٹی آسٹریلیا، تاشقند اور ازبکستان کے سائنسدانوں نے مشترکہ طور پر تيار کی ہے۔

تحقيقی رپورٹ ميں سفارش کی گئی کہ دريائے سندھ کا 50 فيصد پانی ہائیڈرو پاورکيلئے استعمال کيا جائے۔

 

سائنسدانوں نے کہا ہے کہ پاکستان ہائیڈرو پاور جنریشن بڑھا کر زرمبادلہ 11.83فيصد تک بڑھا سکتا ہے اور اس پروجيکٹ پرعمل کرنے سے بجلی کی قیمت بھی کم ہوجائے گی۔

رپورٹ کےمطابق پاکستان میں رائج انڈس بیسن ماڈل کی تجدید وقت کی ضرورت ہے، فی الحال دریائے سندھ کے پانی سے زیادہ ترزراعت ہو رہی ہے۔

تحقيقی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ انڈس بیسن ماڈل کی تجدید سے پاکستان باآسانی پائیدار ترقی کا پلان 2040 حاصل کرسکتا ہے۔

زرمبادلہ بڑھانے کيلئے دریائے سندھ کے کنارے پرزیتون کی کاشت بڑھانے پر زور دیا گیا ہے۔

دریائےسندھ پرموسمی اثرات کو بھی ماڈل میں شامل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔