|

وقتِ اشاعت :   October 5 – 2022

کوئٹہ: غیر سرکاری تنظیموں کے مالی معاملات میں شفافیت وقت کی اہم ضرورت ہے،فیٹف کے عالمی معیار کے مطابق ہر سطح پر کمیونٹی بیسڈ آرگنائزیشن کا منظم مالی نظام سماجی امور کی انجام دہی میں آسانی کا باعث بن سکتا ہے۔

اس لئے ضروری ہے کہ مقامی سماجی ادارے مالی معاملات کو عالمی تقاضوں سے ہم آہنگ کریں۔ان خیالات کا اظہار سماجی تنظیم ائیز اور خیبر پختوخواہ کی سماجی تنظیم بلیو وینز کے تعاون سے مقامی ہوٹل میں منعقدہ ایک روزہ ورکشاپ بعنوان “بلوچستان میں غیرسرکاری تنظیموں کے ضوابط صوبائی اور وفاقی سطح پر این او سی و رجسٹریشن میں دشواریاں ” میں مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اس تربیتی ورکشاپ کا مقصد غیر سرکاری اور غیر منافع بخش تنظیموں کے لئے فیٹف FATF کے اصول و ضوابط پر عمل درآمد کو بہتر بنانے اور غیر سرکاری تنظیموں کے لئے ملکی و غیر ملکی معاونت کے حصول کے موجودہ صوبائی و وفاقی ضابطہ کار کے حوالے سے شرکاء کی استعداد کار میں اضافہ تھا جس میں سول سوسائٹی کی تنظیموں کو آگاہ کیا گیا کہ فیٹف FATF ایک بین الحکومتی پالیسی ساز ادارہ ہے جو غیرقانونی ترسیل اور دہشت گردی کی مالی معاونت کو روکنے کے لئے عالمی طور پر فعال ہے۔

فیٹف FATF کی سفارش نمبر 08 غیر سرکاری و غیر منافع بخش تنظیموں سے متعلق ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ جرائم پیشہ افراد اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے لئے غیر سرکاری تنظیموں کو استعمال نہ کیا جا سکے۔

اوراس متعلق خطرات کو کم کیا جا سکے ورکشاپ میں بلوچستان کی غیرسرکاری تنظیموں کے نمائندوں نے شامل ہوکر اپنے مسائل سے متعلق تبادلہ خیال کیا۔ ائیز آرگنائزیشن کے ایگزیگٹو ڈائریکٹر محمد سمیع خان نے پروگرام کے مقاصد اور بلوچستان میں موجود رجسٹریشن کے اداروں اور ان کے طریقہ کار پر روشنی ڈالی پروگرام میں آئیز آرگنائزیشن کے جنرل سیکرٹری میر بہرام بلوچ نے ایف ٹی ایف کے بارے میں آگاہی دیتے ہوئے کہا کہ 9/11 کے بعد اس بات پہ زور دیا گیا۔

کہ تمام ممالک اپنے قوانین مین ردبدل کرکے اس بات کا سختی سے خیال رکھا جائے کہ جو بھی پیسے خیرات کے ذریعے تنظیموں کو ملتے ہیں ان کا درست استعمال کیا جائے، اس وجہ سے ہر صوبے میں سب رجسٹریشن اداروں کو ختم کرکے ایک ہی ادارہ بنایا جائے تاکہ ٹرانسپریسی کو قائم کیا جسکے پروگرام سے میر بہرام لہڑی پروگرام مینجر سحر نے ایف ٹی ایف کی ریکمنڈیشن نمبر 08 جو کہ غیر منافع بخش اداروں کے لئے دئیے گئے ہیں، اس میں ان چیزوں کی یقین دہانی کروانی ہے کہ غیرمنافع بخش اداروں کو جو چندے اور خیرات میں پیسے ملتے ہیں، ان کو بہتر اور شفاف طریقے سے فلاحی کاموں میں خرچ کئے جائیں، اور ایسے قوانین اور پالیسی بنائے گئے ہیں۔

جن پہ عمل درامد لازمی ہے۔ ضیاء بلوچ منیجر ہارڈ بلوچستان نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی ترسیلات زر اور انسداد دہشت گردی کے حوالے سے مثبت قانون سازی کی حمایت کرتے ہیں، مگر غیر منافہ بخش اداروں کے لئے اسانی پیدا کئے جائیں نہ کہ انہیں کام سے روکا جائے۔

بی سی اراے BCRA کو اب اداروں کے اکائنٹ کھولنے اور ایکنامکس افئیرز ڈیپارٹمنٹس کے مسائل اپنے ادارے میں حل کرنی چاہیے، تاکہ صوبائی تنظیموں کو سپورٹ مل سکے۔ضیاء خان کوئٹہ ٓان لائن کے بانی جو کہ افراد باہم معزوران کے نمائندے ہیں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے لوگوں کو بار بار بلایا جاتا ہے اور اپ ہم پچتا رہے ہیں کہ ہم نے کیوں رجسٹریشن کے لئے اپلائی کیا ہے۔

افراد باہم معزوران کے لئے رجسٹریشن کو ان کے مطابق کئے جائیں۔ذاہد مینگل ایگزیکٹو ڈائریکٹر ازات فائنڈیشن نے کہا کہ پاکستان میں ایمرجنسی ہے اور سیلاب ہے اور لوگوں کو مدد کی ضرورت ہے، اور اس میں پی ڈی ایم اے میں این او سی الگ اور رجسٹریشن الگ ہوتا ہے، لہٰذا اداروں کے لئے اسانی کی جائے اور ون وینڈو ہونا چاہیے، تاکہ ایک ہی ادارے میں رجسٹر ہوسکے۔

پروگرام سے امنہ شعئی ایگزیگٹو ڈائریکٹر ارفن ایج نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ میں ایک سماجی اداروں بچوں کے لئے چلارہی ہوں اور مجھے مخیر حضرات فنڈ کرتے ہیں، رجسٹریشن مشکل ہے،جسکی وجہ سے انہیں اپنے ادارے کو برقرار رکھنا مشکل ہورہا ہے۔

پروگرام کے اخر میں سول سوسائٹی کے نمائندوں کو ایک کمیٹی تجویز کی گئی کے ان مسائل پہ مختلف رجسٹریشن اتھارٹیز سے میٹنگ کرکے تنظیموں کے مسائل کو حل کیا جائے گا، اور مثبت اقدامات اٹھائیں جائیں تاکہ پاکستان گرے لسٹ سے نکل جائے۔فیٹف کے نمائندوں کی وزٹ پاکستان کا ایک کڑی ہے، اور بہتر عمل درامد سے ہمارے مالی معاملات میں بہتری آئے گی اور سیلاب میں جو عالمی فنڈنگ کے مسائل درپیش ہیں، ان میں کمی ہوگی۔ لہٰذ اس قسم کے سیشن کا انعقاد مستقل بنیادوں پہ منعقد کیا جائے تاکہ غیرمنافع بخش اداروں کے ایک پلیٹ فارم متحد کیا جاسکے اور فیٹف FATF کے سفارشات کو بہتر طریقے سے اپنے اداروں میں لاگو کرسکیں۔