|

وقتِ اشاعت :   October 13 – 2022

سپریم کورٹ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ انتخابی معاملات کا ماہر ادارہ تو الیکشن کمیشن ہی ہے، نہیں چاہتے کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ ہر کوئی رٹ میں اڑاتا رہے۔

تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر فیصل واوڈا کی تاحیات نااہلی کیخلاف اپیل پر سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ الیکشن کمیشن کو مضبوط اور با اختیار بنانا چاہتے ہیں، نہیں چاہتے کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ ہر کوئی رٹ میں اڑاتا رہے، انتخابی معاملات کا ماہر ادارہ تو الیکشن کمیشن ہی ہے۔

 

درخواست گزار کے وکیل وسیم سجاد نے کہا کہ کیا ہائی کورٹ کے کہنے سے الیکشن کمیشن عدالت بن جائے گا؟، اسلام آباد ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار پر فیصلہ ہی نہیں دیا۔ الیکشن کمیشن نے حقائق کا تعین بھی درست انداز میں نہیں کیا، امریکی سفارت خانے کے اہلکاروں پر جرح کا موقع ہی نہیں دیا گیا۔

سماعت کے دوران جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا فیصل واوڈا نے شہریت چھوڑنے کیلئے رجوع کاغذات جمع کرانے کے بعد کیا تھا۔

وکیل وسیم سجاد نے مؤقف پیش کیا کہ بطور سینیٹر فیصل واوڈا پر کسی قسم کا کوئی اعتراض نہیں کیا گیا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے تاحیات نااہلی کا فیصلہ برقرار رکھا ہے، الیکشن کمیشن کو حقائق کے تعین کیلئے مقدمہ ہائی کورٹ نے ہی بھیجا تھا۔

سپریم کورٹ نے فیصل واوڈا کی تاحیات نااہلی کے خلاف اپیل پر مزید سماعت 19 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔