|

وقتِ اشاعت :   October 17 – 2022

راوی اربن ڈیولپمنٹ اتھارٹی (روڈا) نے عدالتی احکامات ہوا میں اڑا دئیے، گرین لینڈ پر تعمیراتی منصوبے شروع کردیئے گئے، متنازعہ چہار باغ ہاؤسنگ پراجیکٹ میں احاطہ عالمیگر کے نام سے کثیر المنزلہ ٹاور میں کروڑوں روپے کے لگژری اپارٹمنٹس کی بکنگ شروع کردی گئی۔

روڈا نے اپنے مجوزہ متنازعہ رہائشی منصوبے چہار باغ میں احاطہ عالمگیر کے نام سے کثیر المنزلہ ٹاور کی تشہیری مہم شروع کردی ہے، دکانیں دفاتر اور لگژری اپارٹمنٹس کی پُرفریب تصاویر سے لوگوں کو سرمایہ کاری کیلئے راغب کیا جارہا ہے، فی الحال اس منصوبے کے محل وقوع کا بھی کسی کو علم نہیں۔

رپورٹ کے مطابق روڈا اس علاقے میں غریب کسانوں سے 100 روپے فی مرلہ کے عوض زمین خرید رہی ہے لیکن خیالی ملٹی اسٹوری ٹاور کے ریٹس ناقابل یقین حد تک زیادہ ہیں۔

 

اشتہار کے مطابق سنگل بیڈ کے رہائشی اپارٹمنٹ کی قیمت ایک کروڑ 90 لاکھ روپے، دو بیڈز والے اپارٹمنٹ کی قیمت 3 کروڑ 90 لاکھ اور 3 بیڈز کا اپارٹمنٹ 4 کروڑ 80 اسی لاکھ روپے میں ملے گا۔

رپورٹ کے مطابق بکنگ کے وقت جمع کرائی گئی 5 سے 10 ہزار کی رقم ناقابل واپسی ہوگی۔

سپریم کورٹ نے روڈا کو تعیمراتی مںصوبے شروع نہ کرنے کے احکامات دے رکھے ہیں اور ایکوائر کی گئی زمین پر صرف ماحولیاتی بہتری کیلئے تیار کئے گئے منصوبوں پر کام کرنے کی ہدایت کی ہے لیکن روڈا کی جانب سے چہار باغ کے رہائشی منصوبے پر تیزی سے کام آگے بڑھایا جارہا ہے۔

یہ بھی واضح رہے کہ روڈا پراجیکٹ ایک لاکھ ایکڑ سے زائد رقبے پر بنائے جانے کا منصوبہ ہے، جس میں سے روڈا اتھارٹی صرف 7 ہزار ایکڑ رقبہ حاصل کرسکی ہے، روڈا اتھارٹی کے منصوبوں کیلئے زمین کی دستیابی ابھی تک یقینی نہیں۔

سرمایہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ خیالی منصوبوں کے نام پر بکنگ کی مد میں اربوں روپے اکٹھے کرنے کی کوشش کسی بڑے مالیاتی اسکینڈل کا باعث بن سکتی ہے۔