س۔ ڈراپ آؤٹ بھی ایک بڑا مسئلہ ہے اسکے حل کے لئے کیا اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں؟
ج: ڈراپ آؤٹ کو کم کرنے کے لئے محکمہ ایجوکیشن کی جانب سے وقتاً فوقتاً انرولمنٹ مہم بھی چلائے جاتے ہیں جسکی وجہ سے مدد مل رہی ہے۔ البتہ حائل رکاوٹیں بہت ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ جو گیپ ہیں انکو پر کرنے کے لئے بہت سے ذرائع استعمال میں لائے جا رہے ہیں۔ مثبت اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ شعور کی کمی ہے اگر تعلیمی آگاہی لوگوں میں آجائے تو بہت سے مسائل حل ہوں گے۔ کمیونٹی بہت سے معاملات کو اون نہیں کرتی اگر وہ آگے آجائیں تو یقیناًبہت سی مثبت تبدیلیاں ہوں گی۔دوسری جانب اساتذہ کی معیار بھی وہ نہیں کہ وہ بچوں کو اچھی تعلیم دلاسکیں جس سے کمیونٹی اداروں سے بیزاری کا مظاہرہ کرتی ہے۔
س: دیگر ادارے جو ایجوکیشن کی بہتری کے لئے کام کر رہے ہیں انکے ساتھ محکمہ ایجوکیشن کے روابط کس حد تک ہیں؟
ج: ہم ورلڈ بنک، یونیسیف اور ان تمام اداروں کے ساتھ کام کررہے ہیں جو تعلیم کی بہتری خواہاں ہیں۔ اس مقصد کیلئے جو ہمار ی مدد کرنا چاہے خوش آمدید کہتے ہیں۔
س: جب تک خواتین تعلیم یافتہ نہیں ہوتے اس وقت تک باشعور معاشرے کا خواب ممکن نہیں ۔ بلوچستان میں خواتین کے لئے بہت کم تعلیمی مواقع ہیں اسکی کیا وجہ ہے؟
ج:آپ کی بات درست ہے۔ لیکن موجودہ سیٹ اپ میں خواتین کی تعلیم و تربیت کے لئے بھی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ گلوبل پارٹنرشپ فار ایجوکیشن کے تحت نئے گرلز سکول بنائے جارہے ہیں، موجودہ سکولز کو اپ گریڈ کیا جارہا ہے اور سکولوں کو بنیادی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں جس سے یقیناًگرلز ایجوکیشن کی حا لت بہت بہتر ہو جائیگی۔
س: جس طرح آپ نے چند اہم اقدامات کی بات کی جس پر موجودہ سیٹ اپ میں کام چل رہا ہے تو کیا ایسا ممکن ہے کہ جو ہدف محکمہ ایجوکیشن نے بنالئے ہیں وہ آگے چل کر حاصل ہوں گے اور ان پر اسی طرح سے کام کیا جا ئے گا؟
ج: دیکھیں پالیسیز تو بن چکی ہیں اصل مقصد ان پر عملدرآمد کرانا۔ موجودہ سیٹ اپ میں ایک ٹیم ورک کے تحت کام کیا جا رہا ہے اگر یہ تسلسل برقرار رہا تو یقیناًبہتری کی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے۔
بلوچستان میں پانچ سالہ ایجوکیشن سیکٹر پلان بنایاجائے۔ عزیز احمد جمالی
![]()
وقتِ اشاعت : January 13 – 2016
س۔ ڈراپ آؤٹ بھی ایک بڑا مسئلہ ہے اسکے حل کے لئے کیا اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں؟
ج: ڈراپ آؤٹ کو کم کرنے کے لئے محکمہ ایجوکیشن کی جانب سے وقتاً فوقتاً انرولمنٹ مہم بھی چلائے جاتے ہیں جسکی وجہ سے مدد مل رہی ہے۔ البتہ حائل رکاوٹیں بہت ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ جو گیپ ہیں انکو پر کرنے کے لئے بہت سے ذرائع استعمال میں لائے جا رہے ہیں۔ مثبت اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ شعور کی کمی ہے اگر تعلیمی آگاہی لوگوں میں آجائے تو بہت سے مسائل حل ہوں گے۔ کمیونٹی بہت سے معاملات کو اون نہیں کرتی اگر وہ آگے آجائیں تو یقیناًبہت سی مثبت تبدیلیاں ہوں گی۔دوسری جانب اساتذہ کی معیار بھی وہ نہیں کہ وہ بچوں کو اچھی تعلیم دلاسکیں جس سے کمیونٹی اداروں سے بیزاری کا مظاہرہ کرتی ہے۔
س: دیگر ادارے جو ایجوکیشن کی بہتری کے لئے کام کر رہے ہیں انکے ساتھ محکمہ ایجوکیشن کے روابط کس حد تک ہیں؟
ج: ہم ورلڈ بنک، یونیسیف اور ان تمام اداروں کے ساتھ کام کررہے ہیں جو تعلیم کی بہتری خواہاں ہیں۔ اس مقصد کیلئے جو ہمار ی مدد کرنا چاہے خوش آمدید کہتے ہیں۔
س: جب تک خواتین تعلیم یافتہ نہیں ہوتے اس وقت تک باشعور معاشرے کا خواب ممکن نہیں ۔ بلوچستان میں خواتین کے لئے بہت کم تعلیمی مواقع ہیں اسکی کیا وجہ ہے؟
ج:آپ کی بات درست ہے۔ لیکن موجودہ سیٹ اپ میں خواتین کی تعلیم و تربیت کے لئے بھی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ گلوبل پارٹنرشپ فار ایجوکیشن کے تحت نئے گرلز سکول بنائے جارہے ہیں، موجودہ سکولز کو اپ گریڈ کیا جارہا ہے اور سکولوں کو بنیادی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں جس سے یقیناًگرلز ایجوکیشن کی حا لت بہت بہتر ہو جائیگی۔
س: جس طرح آپ نے چند اہم اقدامات کی بات کی جس پر موجودہ سیٹ اپ میں کام چل رہا ہے تو کیا ایسا ممکن ہے کہ جو ہدف محکمہ ایجوکیشن نے بنالئے ہیں وہ آگے چل کر حاصل ہوں گے اور ان پر اسی طرح سے کام کیا جا ئے گا؟
ج: دیکھیں پالیسیز تو بن چکی ہیں اصل مقصد ان پر عملدرآمد کرانا۔ موجودہ سیٹ اپ میں ایک ٹیم ورک کے تحت کام کیا جا رہا ہے اگر یہ تسلسل برقرار رہا تو یقیناًبہتری کی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے۔