قومی اسمبلی میں منی بجٹ کے اجلاس میں اپوزیشن رکن قومی اسمبلی اور پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین نور عالم خان نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔
ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے نور عالم خان کا کہنا تھاکہ دوائیں مہنگی ہوگئیں، 15 روپے والی دوا اب 100 روپے کی ملے گی۔
انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ واپڈا افسران کو آپ 13 سو یونٹ مفت دیتے ہیں اور غریب آدمی سے بل لیتے ہیں، مفت یونٹ دینے کا سلسلہ بند کریں، عوام لوڈ شیڈنگ سے تنگ ہوتے ہیں اور افسر ٹھنڈے کمروں میں بیٹھے ہوتے ہیں، واپڈا افسران کو لاکھوں روپے تنخواہ،گاڑی اور بے شمار مراعات دے رہے ہیں۔
ضمنی مالیاتی بل قومی اسمبلی اور سینیٹ میں پیش، لگژری اشیا پر سیلز ٹیکس 17 سے 25 فیصد کرنے کی تجویز
ان کا کہنا تھاکہ کہتے ہیں قرضے معاف کریں گے مگر سیلاب زدگان کے قرضے کیوں معاف نہیں کیے؟ اگر آپ ٹیکس لگاتے ہیں تو کچھ سہولت تو دیں، غریب کیلئے صرف نعرے لگانا زیادتی ہوگی، غریب کیلئے بجلی مہنگی نہ کریں، 15 ہزارتنخواہ والا کیسے بل دے گا؟
نور عالم خان کا کہنا تھاکہ ٹیکس کلیکشن والے چور ہیں،عوام تو ٹیکس دیتے ہیں، آپ اپنے اداروں کو تو لگام دیں،گرین چینلز پراسمگلنگ ہوتی ہے، کون مالک ہے اس سے پوچھا جائے کہ افغانستان ڈالرکیسےجارہے ہیں؟
بعد ازاں اسپیکر قومی اسمبلی نے اجلاس جمعہ صبح ساڑھے دس بجے تک ملتوی کردیا۔
خیال رہے کہ وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے ضمنی مالیاتی بل (منی بجٹ) 2023 قومی اسمبلی اور سینیٹ میں پیش کردیا۔
منی بجٹ میں لگژری اشیا پر سیلز ٹیکس 17 سے 25 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔