پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین اور سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ آئین کے تحفظ کیلئے کسی بھی قربانی سے گریز نہیں کریں گے۔ عوام کی منتخب پارلیمنٹ ہی عوام کی سب سے بڑی عدالت ہے۔ اس عدالت کے سامنے سب کو سر تسلیم خم کرنا پڑے گا۔
1973 کے آئین کی گولڈن جویلی تقریب سے خطاب میں انہوں نے جوبلی کے موقع پر قوم کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ آئین کے تحفظ کیلئے کسی بھی قربانی سے گریز نہیں کریں گے۔ قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو شہید نے 1973 کے آئین کی صورت میں قوم کو ایسا تحفہ دیا تھا جو متفقہ دستور ہے جس پر قومی اسمبلی کے تمام اراکین کے دستخط ہیں۔
سابق صدر نے کہا 1973 کے دستور کی اہمیت یہ ہے قومی اسمبلی میں موجود تمام ممبران، جن کا تعلق مختلف سیاسی اور مذہبی جماعتوں سے تھا، نے آئین سے اتفاق کرتے ہوئے اس پر دستخط کیئے تھے۔ پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے سربراہ نے 1973ء کے آئین پر دستک کرنے والے تمام سیاستدانوں کو خراج عقیدت پیش کیا ۔
آصف زرداری نے مادر جمہوریت بیگم نصرت بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی قیادت میں پیپلزپارٹی کے ان ھیروز کو سرخ سلام پیش کیا جنہوں نےآئین کی بحالی کیلئے عظیم قربانیاں دی ہیں۔
سابق صدر نے کہا کہ آمریت کے تاریک ادوار میں پیپلزپارٹی کے جیالوں نے اپنے خون سے چراغ روشن کرکے جمہوریت کیلئے جدوجہد کرنے والوں کو راستہ دکھایا ۔
انہوں نے تمام سیاسی کارکنوں کو کو خراج عقیدت پیش کیا جنہوں نے آئین اور جمہوریت کی خاطر پھانسیاں قبول کیں۔
پی پی شریک چیئر مین نے کہا کہ گڑھی خدا بخش بھٹو کا گنج شہیدان جمہوریت پرستوں کیلئے مینار نور ہے جہاں سے شہیدوں کے خون کی سرخی لیکر جمہوریت کا سورج طلوع ہوتا ہے ، 1973 کے آئین کی اصل صورت میں بحالی محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی زندگی کا اولین مقصد تھا تاکہ بااختیار پارلیمنٹ بحال ہو ، الحمدللہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے ذریعے 1973 کا آئین اصل صورت میں بحال ہو چکا ہے ۔
سابق صدر نے کہا کہ پاکستان کے عوام کی منتخب پارلیمنٹ ہی عوام کی سب سے بڑی عدالت ہے اس عدالت کے سامنے سب کو سر تسلیم خم کرنا پڑے گا، ہمارا ملک اس لئے آج مشکلات کا سامنا کر رہا ہے کہ کچھ عناصر نے آئین سے انحراف کیا تھا اب وقت آگیا ہے کہ ہم سب آئین پر عمل کریں قوم اور ملک کے مستقبل کے فیصلے کرنے کا اختیار پارلیمنٹ کو کرنے دیں۔