پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں نگران حکومتوں کا معاملہ عدالتِ عظمیٰ کو بھجوانے کی استدعا کردی۔
پی ٹی آئی کے مرکزی سینئر نائب صدر فواد چودھری نے صدر عارف علوی کو خط لکھ دیا۔ جس میں وفاقی حکومت اور الیکشن کمیشن کی جانب سے دستور سے انحراف کے پیشِ نظر معاملہ عدالتِ عظمیٰ کو بھجوانے کی سفارش کردی۔
فواد چودھری کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے ک ہدستورِ پاکستان کے تحت اقتدارِ اعلیٰ رب العزت کیلئے خاص، اختیارات کا سرچشمہ عوام ہیں، عوام اپنے اختیارات منتخب نمائندوں کے ذریعے بروئے کار لاتے ہیں، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد دونوں صوبوں میں نگران حکومتیں قائم کی گئیں۔
انہوں نے لکھا کہ دستور نگران حکومتوں کو صاف شفاف انتخابات کے انعقاد کا واحد فرض سونپتا اور اس کیلئے 90 روز کی مہلت دیتا ہے، نگران حکومتیں ایک طرح سے الیکشن کمیشن آف پاکستان ہی کی توسیع ہیں، دستور نگران حکومتوں کو اہم پالیسی فیصلہ سازی سے روک کر روزمرہ کے امور کی انجام دہی تک محدود کرتا ہے۔
پی ٹی آئی کے سینئر رہنما نے لکھا کہ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) حکومت اور الیکشن کمیشن کے غیرآئینی اور غیرقانونی اقدامات کے باعث انتخابات کے حوالے سے دستور کی طے شدہ مدت گزر گئی۔ پہلے بھی سپریم کورٹ کو انتخابات کے انعقاد کی مدت کےُتعین کیلئے عدالتِ عظمیٰ کو اپنا آئینی اختیار استعمال کرنا پڑا،پنجاب اور پختونخوا میں دونوں نگران حکومتیں اپنی آئینی مدت مکمل کرچکی ہیں، دستور نگران حکومتوں کے مدتِ کار میں توسیع کی اجازت نہیں دیتا۔
فواد چودھری کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن تمام قوانین اور معقولیت کے تمام معیارات روندتے ہوئے ان نگرانوں کو دونوں صوبوں پر مسلط کئے ہوئے ہے، 90 روز گزر جانے کے بعد ان نگران حکومتوں کو کسی طرح قانونی نہیں کہا جاسکتا۔ 90 روز کی مدت گزر جانے کے بعد ان نگران حکومتوں کی حیثیت ”غاصبوں“ کی سی ہے جنہیں فوراً ہٹایا جانا چاہئے۔ صدرِ مملکت سے استدعا ہے کہ آئین سے اس سنگین انحراف کا نوٹس لیں۔ صدرِ مملکت مشاورتی (ایڈوائزری) دائرۂ اختیار کے تحت معاملہ عدالتِ عظمیٰ کو بھجوائیں۔