|

وقتِ اشاعت :   May 3 – 2023

سلام آباد: بھارت میں کشمیر کے ریاستی حیثیت بحال کرنے کا مطالبہ زور پکڑ گیاہے۔ عام آدمی پارٹی اور کشمیری رہنما، کشمیر کی ریاستی حیثیت بحال کرنے پر ہم آواز ہیں۔

اِن بڑھتی آوازوں نے مودی سرکار کو پسپائی پر مجبور کر دیا ہے۔ 14 فروری 2023 کو بھارتی وزیر داخلہ امت شاہ نے کشمیر کی ریاستی حیثیت بحال کرنے کا عندیہ دے دیا تھا۔

امت شاہ کا کہنا تھا کہ ریاستی انتخابات کے بعد کشمیر کی ریاستی حیثیت بحال کر دی جائیگی۔ 3 نومبر 2022 کو فاروق عبدللہ نے کشمیر کی ریاستی حیثیت بحال نہ کرنے کی صورت میں انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا۔ KAP&J کے سربراہ الطاف بخاری نے 12 نومبر 2022 کو معاملہ سپریم کورٹ لے جانے کا اعلان کیا تھا۔ 13 نومبر 2022 کو عام آدمی پارٹی نے جلد از جلد کشمیر کی ریاستی بحالی کا مطالبہ کیا۔

یکم جنوری 2023 کو محبوبہ مفتی نے بھارتی چیف جسٹس کو خط میں کشمیریوں کو انصاف فراہم کرنے کا تقاضا کیا تھا۔ 16 فروری 2023 کو کانگریس کے رہنماء وقار رسول وانی نے مودی سرکار کو کشمیر کی ریاستی حیثیت جلد از جلد بحال کرنے کا الٹی میٹم دیا۔

22 فروری 2023 کو مہاراجہ ہری سنگھ کے بیٹے کرن سنگھ نے بھی کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں اسمبلی انتخابات آزادانہ اور منصفانہ طریقے سے کرائے جائیں اور ریاست کا درجہ بغیر کسی تاخیر کے بحال کیا جائے۔ عالمی میڈیا پہلے بھی مسئلہ کشمیر کوکشمیریوں کی امنگوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کا مطالبہ کر چکا ہے۔ کیا مودی سرکار کشمیریوں کو ان کے جائز حقوق لوٹائیگی؟ یا کشمیر مودی کی جاگیر ہی رہے گا؟ کیا عالمی میڈیا کشمیریوں کے بدترین استحصال کا نوٹس لے گا؟