دریں اثناء وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا کہ بجلی کے زیادہ تر منصوبے اگلے سال مکمل ہو رہے ہیں اور 2018ملک سے لوڈ شیڈنگ کے مکمل خاتمے کا سال ثابت ہو گا ، پارلیمنٹ کا سولر منصوبہ پاک چین دوستی کی ایک اور مثال ہے اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت متعد د منصوبے زیر تعمیر ہیں منصوبے کی تکمیل سے دنوں ممالک کے ساتھ ساتھ خطے میں خوشحالی آئے گی ،ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز پارلیمنٹ ہاؤس کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے منصوبہ کا باقاعدہ افتتاح کرنے کے بعد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وزیراعظم کے ہمراہ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق ، چیئرمین سینٹ رضاربانی ، وزیر خزانہ اسحق ڈار، چینی سفیر سن وی ڈونگ سمیت دیگر وزراء اور اراکین پارلیمنٹ بھی موجود تھے ۔واضح رہے کہ اس سے قبل اس منصوبے کا افتتاح چینی صدر شی چن پنگ نے 21اپریل 2015کو اپنے دورہ پاکستان کے موقع پر کیا تھا ، چین کے تعاون سے اس منصوبے پر تین ہزار سے زائد سولر پینل نصب کیے گئے ہیں جو سورج کی روشنی سے پارلیمنٹ کو بجلی فراہم کریں گے ۔ وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ پارلیمنٹ کا اپنی بجلی خود بنانے کا فیصلہ خوش آئند ہے ،پاکستان کے لیے بجلی کی پیداوار ایک بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے جسے ٹھیک کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ، یہ ایک نمونہ ہے کہ پاکستان کی پارلیمنٹ بجلی کے معاملے میں ناصرف خود کفیل ہو گئی ہے بلکہ یہاں سے بجلی نیشنل گرڈاسٹیشن کو بھی جا رہی ہے ، منصوبے کی تکمیل کے لیے خوصی دلچسپی لینے پر سپیکر اور چیرمین سینٹ مبارکباد کے مستحق ہیں ، انہوں نے کہا پارلیمنٹ ایک ایسا مرکز ہے جہاں عوامی نمائندے ملک کے لیے قانون سازی ، پالیسیاں بناتے ہیں اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے کام کرتے ہیں ،یہاں سے سولر منصوبے کا آغاز ایک خوش آئند بات ہے ،اس کی کرنیں پورے ملک تک پہنچنی چاہیں ، نجی او سرکاری دیگر شعبے اس منصوبے کی تقلید کریں اور اپنے اداروں کو بجلی کے معاملے میں خود کفیل بنائیں ،وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ بجلی کے مختلف شعبوں کے سب سیکٹرز پر کام تیزی سے جاری ہے اور بجلی کی پیدوار پر خوصی توجہ د ی جا رہی ، تما م زیر تعمیر منصوبوں کی خود نگرانی کر رہا ہوں بجلی کے زیادہ تر منصوبے 2017میں مکمل ہو جائیں گے او ر2018ملک سے بجلی کی قلت کے خاتمے کا سال ثابت ہو گا۔
2018 تک ملک سے مکمل لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کرینگے ، نوازشریف
![]()
وقتِ اشاعت : February 24 – 2016
دریں اثناء وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا کہ بجلی کے زیادہ تر منصوبے اگلے سال مکمل ہو رہے ہیں اور 2018ملک سے لوڈ شیڈنگ کے مکمل خاتمے کا سال ثابت ہو گا ، پارلیمنٹ کا سولر منصوبہ پاک چین دوستی کی ایک اور مثال ہے اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت متعد د منصوبے زیر تعمیر ہیں منصوبے کی تکمیل سے دنوں ممالک کے ساتھ ساتھ خطے میں خوشحالی آئے گی ،ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز پارلیمنٹ ہاؤس کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے منصوبہ کا باقاعدہ افتتاح کرنے کے بعد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وزیراعظم کے ہمراہ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق ، چیئرمین سینٹ رضاربانی ، وزیر خزانہ اسحق ڈار، چینی سفیر سن وی ڈونگ سمیت دیگر وزراء اور اراکین پارلیمنٹ بھی موجود تھے ۔واضح رہے کہ اس سے قبل اس منصوبے کا افتتاح چینی صدر شی چن پنگ نے 21اپریل 2015کو اپنے دورہ پاکستان کے موقع پر کیا تھا ، چین کے تعاون سے اس منصوبے پر تین ہزار سے زائد سولر پینل نصب کیے گئے ہیں جو سورج کی روشنی سے پارلیمنٹ کو بجلی فراہم کریں گے ۔ وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ پارلیمنٹ کا اپنی بجلی خود بنانے کا فیصلہ خوش آئند ہے ،پاکستان کے لیے بجلی کی پیداوار ایک بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے جسے ٹھیک کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ، یہ ایک نمونہ ہے کہ پاکستان کی پارلیمنٹ بجلی کے معاملے میں ناصرف خود کفیل ہو گئی ہے بلکہ یہاں سے بجلی نیشنل گرڈاسٹیشن کو بھی جا رہی ہے ، منصوبے کی تکمیل کے لیے خوصی دلچسپی لینے پر سپیکر اور چیرمین سینٹ مبارکباد کے مستحق ہیں ، انہوں نے کہا پارلیمنٹ ایک ایسا مرکز ہے جہاں عوامی نمائندے ملک کے لیے قانون سازی ، پالیسیاں بناتے ہیں اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے کام کرتے ہیں ،یہاں سے سولر منصوبے کا آغاز ایک خوش آئند بات ہے ،اس کی کرنیں پورے ملک تک پہنچنی چاہیں ، نجی او سرکاری دیگر شعبے اس منصوبے کی تقلید کریں اور اپنے اداروں کو بجلی کے معاملے میں خود کفیل بنائیں ،وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ بجلی کے مختلف شعبوں کے سب سیکٹرز پر کام تیزی سے جاری ہے اور بجلی کی پیدوار پر خوصی توجہ د ی جا رہی ، تما م زیر تعمیر منصوبوں کی خود نگرانی کر رہا ہوں بجلی کے زیادہ تر منصوبے 2017میں مکمل ہو جائیں گے او ر2018ملک سے بجلی کی قلت کے خاتمے کا سال ثابت ہو گا۔