|

وقتِ اشاعت :   March 25 – 2016

کوئٹہ :  بی این پی کے رہنماؤں نے کہا کہ قدرتی دولت سے مالا مال خطے کی مالک آج بھی اس جدید ترقی یافتہ دور میں پینے کے صاف پانی تعلیم صحت اور روزگار کی سہولتوں سے محروم بدترین استحصال کے شکار ہیں حکمرانوں نے ہمیشہ بلوچ عوام کو پسماندہ رکھنے کی کوشش کی تاکہ وہ اپنے توسیعی پسندانہ استحصالی پالیسیوں کو جاری و ساری رکھ کر طاقت کے زور پر بلوچ قومی سوال کو زیر کرسکے لیکن تاریخ گواہ ہے کہ ہر کٹھن اور مشکل وقت میں یہاں کے فرزندوں نے اپنے وطن کی دفاع اور قومی حقوق کی حصول کیلئے کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کیا اور نہ قومی حقوق کی جدوجہد سے غافل رہے بلوچستان کی قومی تحریک شہداء کی قربانیوں سے بھری پڑی ہے اور شہداء کے قربانیاں ہمارے لئے مشعل راہ کی حیثیت رکھتے ہیں ان خیالات کا اظہار بلوچستان نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام شہید اسلم بلوچ کے برسی کے حوالے سے کلی سوراب خان قمبرانی میں منعقدہ تعزیتی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے مرکزی فنانس سیکرٹری ملک نصیر احمد شاہوانی ، مرکزی کمیٹی کے رکن غلام نبی مری، کوئٹہ کے قائمقام ضلعی صدر یونس بلوچ، ڈپٹی جنرل سیکرٹری ملک محی الدین لہڑی ، جوائنٹ سیکرٹری محمد لقمان کاکڑ، بیگ محمدزہری ،اور کامریڈ مجید قمبرانی نے کیا اس موقع پر اسٹیج سیکرٹری کے فرائض بی این پی ضلع کوئٹہ کے لیبر سیکرٹری ڈاکٹر علی احمد قمبرانی نے سرانجام دیئے تعزیتی جلسے کی صدارت شہید اسلم کی تصویر سے کرائی گئی جبکہ مہمان خاص پارٹی کے مرکزی فنانس سیکرٹری ملک نصیر احمد شاہوانی اور اعزازی مہمان پارٹی کے مرکزی کمیٹی کے رکن غلام نبی مری تھے اس موقع پر شہید اسلم بلوچ شہدائے بلوچستان اور دنیا کے تمام محکموم و مظلوم شہداء کو اپنے عظیم جانوں کی قربانی دینے پر زبردست الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے دو منٹ کھڑے ہوکر خاموشی اختیار کی گئی انہوں نے کہا کہ بلوچ قوم ایک عظیم سرزمین کے مالک ہوتے ہوئے بھی آج ظلم و جبر سماجی ناانصافیوں کا شکار اور پسماندگیوں کا شکار ہے بلوچ فرزندوں نے جب بھی اپنے قومی حقوق کے ساتھ ساتھ سماجی مسائل پانی منشیات کے خاتمے صحت تعلیم روزگار اور دیگر ضروریات زندگی کیلئے آواز بلند کی تو بااختیار قوتوں نے بلوچ عوام کو بنیادی ضروریات زندگی فراہم کرنے کے بجائے طاقت کے زور پر بلوچ عوام کی سیاسی اور جمہوری آوازکو کچھلایا گیا اور یہ ثابت کیا گیا کہ یہاں کے بالادست قوتوں کو بلوچ عوام کی ترقی و خوشحالی سے کوئی سروکار نہیں ہیں بلکہ انھیں بلوچ وطن کی قدرتی دولت ساحل وسائل سے دلچسپی ہے اور ان کی حصول کیلئے بلوچ عوام کی تہذیب و تمدن تشخص بقاء و سلامتی کو تہس نہس اور ملیا میٹ کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ 1980کی دہائی میں بی ایس او کے رہنماء اسلم بلوچ نے کراچی کے قدیم ترین بلوچ آبادی میں بڑھتی ہوئی منشیات کے خلاف ایک پر امن جلوس کی قیادت کی تاکہ منشیات جیسے لعنت سے قوم کے فرزندوں کو چٹکارہ دلایا جاسکے لیکن اس جلوس پر پولیس نے فائرنگ کرکے اسلم بلوچ کو شہید کیا اور منشیات فروشوں کو کھلے عام چھوٹ دے دی گئی کہ وہ حکومتی سرپرستی میں ہر جگے پر نوجوان نسل کو منشیات کی طرف راغب کرکے ان کی مستقبل کو تباہ کرنے میں کھلی چھوٹ ہے آج بھی بلوچ علاقوں میں منشیات کی فروخت سرعام ہورہی ہے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے کیونکہ حکمران مختلف سازشوں اور ہتھکنڈوں کے ذریعے سے بلوچ قوم کو تباہ و برباد کرنے پر تلے ہوئے ہیں ایک طرف آج بھی بلوچستان میں پانچویں فوجی آپریشن کا سلسلہ جاری و ساری ہے لاپتہ افراد کو بازیاب نہیں کیا گیا تو دوسری طرف بلوچ علاقوں کو ترقیاتی پیکجز میں بھی محروم رکھا جارہا ہے اور اپنے من پسند علاقوں کو ترقی کی دی جارہی ہے سریاب جیسے پسماندہ اور کوئٹہ کے قدیم ترین علاقے کے مکین آج بھی روڈ نالی سڑک پانی صحت تعلیم اور انفراسٹکچر کے ضرویات زندگی سے محروم ہیں انہوں نے کہا کہ ہم ہرگز ترقی کی مخالف نہیں ہے لیکن ہمیں وہ ترقی ہر گز قبول نہیں ہے جو ہم سے ہمارا مادر وطن تہذیب و تمدن تشخص وہ ہم سے چھینا جائے انہوں نے کہا کہ بی این پی سیاسی وجمہوری انداز میں بلوچستان اور بلوچ عوام کی حقوق کیلئے گذشتہ کئی دہائیوں سے جدوجہد میں مصروف عمل ہے اور ہر مشکل اور کٹھن وقت میں پارٹی نے بلوچ اور بلوچستان عوام کی بہتر اور حقیقی نمائندگی کا حق ادا کرتے ہوئے جدوجہد کی