|

وقتِ اشاعت :   March 29 – 2016

کوئٹہ :  بلوچ نیشنل موومنٹ کی مرکزی کمیٹی کادوسرا اجلاس چیئرمین خلیل بلوچ کی صدارت میں منعقد ہوا ،اجلاس کا پہلا روزجس میں پہلا سیشن سیکریٹری جنرل شہیدداکٹرمنان بلوچ کی عظمت ،سیاسی کردار وخدمات کے لئے مختص تھا جس میں چیئرمین اورمرکزی کمیٹی کے ممبران نے شہیدڈاکٹر منان بلوچ کی عظمت وسیاسی ، انہیں پارٹی کو فعال بنانے اورقومی تحریک کے لیے زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔ سینٹرل کمیٹی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین خلیل بلوچ نے کہا30جنوری کو بلوچ قوم نے ایک عظیم لیڈ ر کھودیاہے ،بلوچ نیشنل موومنٹ نے اپنا عظیم رہبر آزادی کے سفر میں قربان کردیا ۔قومی آزادی کا ایک بہادرلیڈر،قومی سیاست کے فہم ادراک کا پیکر،انسانیت کے لئے ایک دھڑکتی دل، قومی تحریک کاعظیم جانباز رہبردشمن نے بلوچ قوم سے جدا کردیاجب فانی انسان فکر و نظریے میں ڈھل جاتے ہیں تو لافانی بن جاتے ہیں، شہیدڈاکٹر منان بلوچ قومی آزادی کے لئے نیشنلزم کے نظریے پر کاربند ایک قابل تقلیدمثال ہیں آج جسمانی جدائی سے ایک ایسی مینارہ نور بن چکا ہے جو غلامی کے تیرگیوں میں نشانِ راہ،دشمن کی جبر و دہشت خیزیوں میں حوصلہ ،جمود و بیگانگی میں حرکت اور جانفشانی اور آزادی کے لئے برسر پیکار بلوچ قوم کے لئے فخر کی عظیم علامت بن چکے ہیں ۔بلوچ نیشنل موومنٹ اور بلوچ قوم کو اس کی کارناموں اور شہادت پر فخر ہے ،پارٹی جھنڈا سرنگوں ہوکر ان کی عظمت ،کردار اور خدمات کا اعتراف کرکے انہیں سرخ سلام پیش کرتا ہے ۔جنہوں نے اپنی سیاسی زندگی کا ایک ایک لمحہ قومی آزادی کے لئے دان کردیاہے اوراپنی انمول زندگی قومی آزادی کے لئے راہوں میں عمل کے میدان میں نچھاور کردیا ۔ یہ میری خوش قسمتی ہے کہ میں نے ہمیشہ ایک ایسی بہترین ٹیم ورک کے ساتھ کام کیا ہے جو قومی جدوجہد کے لئے وقف ،سخت ترین حالات میں ثابت قدم ،ایک دوسرے سے ہمقدم ،مستعد اور انقلابی معیار پر پورا اترتے ہیںآج یہ اس ٹیم کی محنت کا ثمر ہے کہ بلوچ نیشنل موومنٹ کا شمار قومی تحریک کے ذمہ دار اداروں میں ہوتا ہے ،آج نہ صرف بلوچستان کے کونے کونے میں پارٹی موبلائزیشن کا عمل کامیابی سے چل ر ہے بلکہ بیرونی دنیا میں بھی بلوچ قوم کی نمائندگی کا حق پارٹی خارجہ کمیٹی ادا کررہا ہے ۔چیئرمین غلام محمد بلوچ سمیت سینئرقیادت کی شہادت ،پارٹی پر دشمن کی مکمل کریک ڈاؤن ،اکثر ساتھیوں کی زیر زمین چلاجانا،مجموعی طور پر مشکل اورپیچیدہ صورت حال میں جو سب سے زیادہ سخت جان ،انتھک محنتی اور عزم و حوصلے سے حالات کا مقابلہ کرنے میں کامیاب ہوا وہ ڈاکٹر منان بلوچ تھے ،جسے آ ج ہم نے کھودیاہے ۔نہ صرف بلوچ قوم نے ایک عالم ،فہم و ادراک کے پیکر لیڈر کھودیا ہے بلکہ انسانیت کے مظلومین کے لئے ایک سخت جان اور ہمہ وقت باعمل علامت ڈاکٹر منان بلوچ اب جسمانی طور پر نہیں رہا ۔جس کی تلافی ایک مشکل امر ہے ،وہ ہستی جسے ادراک تھا کہ جدوجہد پارٹی کے بغیر کامیابی کے منزل سے ہمکنار نہیں ہوسکتااس لئے پوری زندگی پارٹی کے استحکام اور ورکروں کو متحرک کرنے کے لئے وقف کردیا،آج بلوچستان کا کوئی ایسا مقام نہیں ہے جہاں شہیدڈاکٹر منان بلو چ پارٹی پروگرام ،قومی تحریک کے لئے موبلائزیشن نہ کیا ہو،جہاں پارٹی کو ضرورت ہوتا ،جدوجہد کو ضرورت ہوتا شہیدڈاکٹر منان بلوچ آن حاضر ہوتے اور ان کے پاؤں میں کبھی لرزش نہیں آئی بلکہ وہ علاقے جہاں بہت سوں کا خیال تھا کہ موبلائزشن کا عمل ،سرگرمیاں ناممکن ہیں لیکن شہیدڈاکٹر منان بلوچ نے ہر جگہ ایسی خوف اور فرارکے راستوں اور دشمن کو چیلنج کرکے ناممکن کو ممکن کر دکھا یا۔ان کی سیاسی زندگی ایسی مثالوں سے عبارت ہے ،میں ذاتی طورپر سمجھتا ہوں کہ کمیٹڈ اور باحوصلہ انسان کے لئے دنیا میں کوئی شئے ناممکن نہیں ہے ۔شہیدڈاکٹر منان بلوچ نے اپنی عزم اور حوصلے سے میرے یقین کو مزید مستحکم کردیا ہے ۔آج وہ موجو د نہیں ہیں تو ہم تا ابداس کی کمی کو محسوس کرتے رہیں گے لیکن پارٹی ہمیشہ ایسی طاقت رکھتا ہے کہ وہ اپنی لیڈر ز،کیڈرز کا نعم البدل پیدا کرتا ہے ۔چیئرمین غلام محمد بلوچ کی شہادت کوئی معمولی نقصان نہیں تھا ،شہید سدوجان مری کی شہادت ہمارے لئے کم نقصان نہیں ایسے بے شمار سیاسی کارکن و لیڈر تھے جن کی خدمات بلوچ قوم کے مشعلِ راہ ہیں ۔شہیدڈاکٹر منان بلوچ انہی عظیم انسانوں میں سے ایک تھے ،ہم عزم و اقرار کرتے ہیں کہ ہم ان کی شہادت سے پیدا ہونے والی خلاؤں کو پُر کرنے کی کوشش کرتے ہیں ،ان کی تشنہ تکمیل ارمانوں کی تکمیل کریں گے اوران کی خوابوں کو شرمندہ تعبیر کریں اور بلوچ قومی آزادی کے لئے سروں کا سودا بلوچ نیشنل موومنٹ کا فلسفہ رہے گا۔چیئرمین خلیل بلوچ نے شہید ڈاکٹر منان بلوچ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے مزید کہا کہ ہم کم و بیش نو سال نو مہینے اکھٹے رہے پہلی ملاقات غالباََ26جون 2006کو اس پستہ قامت ،بیساکھیوں کے سہارے چلتے ہوئے ،بذلہ سنج نابغہ ہستی روزگارہستی کودیکھا۔میری گمان میں نہ تھا کہ ان بیساکھیوں کے سہارے چلتے کمزور انسان کے ساتھ اتنی طویل اورمشکل مسافت طے کرسکتے ہیں ،اتنی کامیابیاں سمیٹ سکتے ہیں ۔اس ملاقات کے بعد دیوان ہوتے رہے ۔ہم نے ایک طویل سیاسی پیریڈ اکھٹے گزارا۔میں نے ڈاکٹر صاحب میں ہمیشہ بلوچ نیشنل موومنٹ کو دیکھا،جب ہم نے بلوچ نیشنل موومٹ جوائن کیا تو اس وقت غلام محمد صاحب جیل میں تھے۔اس وقت ڈاکٹر صاحب کے پاس کوئی عہدہ نہیں تھا مگر اس کی زندگی پارٹی تھا۔وہ مختلف لوگوں سے ملاقات کرتا ،تگ ودو کرتا۔انہیں کبھی چین نہیں آیا ،وہ بہت صاف گو انسان تھے اپنی بات بغیر کسی لگی لپٹی کے کہہ دیتاتھا ۔ایسی جرات بہت کم انسانوں میں ہوتا ہے ۔ دس سالہ ہمراہی میں بلوچستان کے طول وعرض میں گوادر سے لے کر کراچی ،دالبندین سے لے کر اوستہ محمد تک یا سندھ کے علاقوں میں دورے کئے ۔میں نے ایک وقت خودکوبحیثیت سیکریٹری جنرل شہید غلام محمد کے پہلو میں دیکھا ،اور ایک وقت ڈاکٹر صاحب کو بحیثیت سیکریٹری جنرل اپنے پہلو میں دیکھا ۔آج ان کی نشست خالی ہے۔ بحیثیت پارٹی سیکریٹری جنرل اس نے کوئی بھی ایسا کام نہیں کیاجو پارٹی پالیسی کے خلاف ہو ۔میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ آزادی کی جدوجہد عظیم ہوتا ہے اور اسے عظیم لوگ ہی انجام دیتے ہیں ایسے عظیم انسان جو مسلسل عمل ،مضبوط کمٹمنٹ ،مستقل مزاجی ،صاف گوئی اور انقلابی رویے کے ساتھ اپنی زندگی اپنی قوم کے مستقبل کے لئے قربان کردیتا ہے ،میں نے اپنی مختصر سیاسی کیریر میں ڈاکٹر منان بلوچ جیسے سیاسی ورکربہت کم دیکھا ہے، کہ جو ورکر،کیڈر اور لیڈر شپ کے ساتھ ہم آہنگ تھا۔وہ اعلیٰ صلاحیتوں کا خزانہ اورمضبوط قوتِ ارادی کا سیمبل تھا شاید بلوچ تاریخ میں سب سے زیادہ انٹرنیشنل میڈیا ،انٹرنیشنل کمیونٹی ،اقوام متحدہ سمیت عالمی اداروں سے رابطے میں ڈاکٹرصاحب رہے ۔بحیثیت سیکریٹری جنرل پچاس سے زائد ڈرافٹ انہوں نے اقوام متحدہ اوراس کے ذیلی اداروں کو بلوچ بارے لکھے لیکن اس بات پر ضرور افسوس ہوتا ہے کہ ان عالمی اداروں نے بلوچ قومی رہبر اور لیڈرکے شہادت پر اپنی موقف پیش نہ کی بہت کم ایسے سیاسی ورکر پیدا ہوتے ہیں۔ آج ہم فخر سے کہتے ہیں کہ بلوچ نیشنل موومنٹ کو اس مقام تک پہنچانے میں سب سے زیادہ کردار ڈاکٹرمنان بلوچ کاہے بحیثیت بنیادی ممبر،بحیثیت سینٹرل کمیٹی ممبر،بحیثیت آرگنائزنگ کمیٹی کے ممبریابحیثیت سیکریٹری جنرل اس نے ہرپوزیشن پر اپنی فرض سے زیادہ کام کرنے کی کوشش کی ،اورہمیشہ ادارہ کے تابع رہے ۔ایک بااختیار عہدے پرفائزہونے کے باوجود اپنے ہر معاملے پر پارٹی کو پیشگی معلومات فراہم کرتا،وہ اپنے آپ میں ایک ادارہ تھے ،وہ بلوچ نیشنل موومنٹ تھے ۔اس کی زندگی کا ہرعمل پارٹی کے لئے تھا اور اس کی نعم البدل کو اس کا کردار اور عظمت خود پیدا کریں گے۔ بہرحال میں ایک بات کہہ سکتا ہوں کہ ہم نے اپنا ایک عظیم لیڈر کھودیا ہے۔اتنی طویل سیاسی رفاقت میں، مجھے صرف ایک گلہ ہے ان سے کہ وہ بہادری کی وہ حدود بھی پار کرگئے کہ احتیاط و خوف کا فرق نہ باقی رہا۔پارٹی کے لئے ان کے خدمات کسی سے ڈھکی چھی نہیں ہیں اس جگہ پہ آج ہم بیٹھے ہیں یہاں بہت پہلے ڈاکٹر صاحب نے اپنے قدم رکھے تھے ،ہم ان کی خدمات کا اظہار کرنے شاید قاصر ہی رہیں گے ۔اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے سینٹرل کمیٹی کے ممبران نے ڈاکٹرمنان بلوچ کی عظمت کو سلام پیش کرتے ہوئے کہاکہ شہید ڈاکٹرمنان بلوچ وہ سیاسی سمندر تھے جس کی گہرائی ناپی نہیں جاسکتی۔ شہید ڈاکٹرمنان بلوچ کی خدمات و کردار پر بات کرنا سورج کو انگلی دکھانے کی مترادف ہے ۔