|

وقتِ اشاعت :   March 30 – 2016

کوئٹہ :  بلوچ نیشنل موومنٹ کی مرکزی کمیٹی کااجلاس چیئرمین خلیل بلوچ کی صدارت میں آج دوسرے روز بھی جاری رہا۔دوسرے روز کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پارٹی کے سینٹرل کمیٹی کے اجلاس میں قومی تحریک ،ریاست کی بربریت اور بلوچ نسل کشی ،خطے اور عالمی صورت حال پربحث کی گئی ہے۔مرکزی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین خلیل بلوچ نے کہاکہ انسانی صفات سے محروم ،بین الاقوامی قاعدے قوانین کا منحرف حکمران کے مقابلے میں ایک بکھری ہوئی سماج اور روایتی سیاست کے دلدادہ لیڈروں کی کارستانیوں،قومی سیاست کے منحرفین کی دشمن سے باقاعدہ ہم قدم ہونے سمیت بار بار مایوسیوں کے زخموں کے باوجود، آزادی کے نعرہ کی ایسی عملی مقبولیت حاصل کرنا بلوچ کی اپنی آزادی اور مادروطن سے محبت اور نیشلزم کے نظریے کی طاقت کااظہارہے۔ آج بلاشبہ تحریک قومی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیاہے اورقوم کو آزادی کے فلسفے اور ایکتا کے لڑی میں پرونے کا ایک جامع ارتقاء ہوچکاہے ،جس کی خدو خال آئندہ واضح ہوتے چلے جائیں گے اورآج نہ صرف بلوچ قوم اپنی آزادی کے جدوجہد کو مضبوط بنیادیں فراہم کرچکا ہے بلکہ دنیامیں ہماری قومی آواز سنا جارہا ہے ۔دشمن ہمیں کچل نہیں سکا ہے، اس کامیابی کے لئے ہم نے قیمت چکائی ہے مگر آزادی کے تحریکوں میں کوئی ایسی پیمانہ نہیں ہوتا کہ قومی آزادی کے عوض نقصانات کا تخمینہ لگایا جائے۔آزادی کے لئے اس سے بڑی قیمت چکانی پڑتی ہے ہم نے پارٹی بانی چیئرمین غلام محمد کی قربان دی ہے ،آج ہم نے ڈاکٹر منان بلوچ کی قربانی پیش کی ہے ۔ہم نے کابینہ ،سینٹرل کمیٹی کے ممبران کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر خالد ،سدو جان ،شہیک جان سمیت ہزاروں فرزندوں کی لہو کے نذرانے پیش کئے ہیں ۔ہزاروں کی تعدادمیں دشمن کے قید خانوں میں بند غیرانسانی اذیتیں سہہ رہے ،جب کسی شہید کی لاش پھینکی جاتی ہے تو اس کے جسم پر تشدد کے نشانات بتاتے ہیں کہ اس ریاست نے ان کے ساتھ کیسی درندگی روا رکھی ہے ، تاریخ و تہذیب اور انسانی اقدار سے محروم دشمن سے اس سے کہیں زیادہ بربریت کاامکان ہے ۔’’دشمن کتنی مدت تک اس شدت کے ساتھ بلوچ نسل کشی کے عمل کو جاری رکھے گا ‘‘یہ اہم نہیں ہے ،بلکہ ’’دنیا میں کوئی طاقت قومی جدوجہد کو آج تک ختم نہیں کرسکا ہے ‘‘یہ اہم ہے ۔ آغاز سے اب تک دشمن کی درندگی و انسانیت سوز مظالم کا سورج سوا نیزہ پر ہے ،ہمہ وقتی کریک ڈاون جاری ہے ،بات چادر و چاردیواری سے کہیں آگے بڑھ چکی ہے۔آج پورے کے پورے گاؤں صفحہ ہستی سے مٹائے جارہے ہیں ۔مادروطن باقاعدہ وار زون میں بدل چکا ہے۔ سیاست کے پیچیدہ حالات اور قومی غلامی کے احساس کی بھٹی میں پک کر کندن بنے عظیم ساتھیوں کی روزانہ کی بنیادوں پر شہادت قومی تحریک میں ایسی کسوٹی بن چکے ہیں جس میں اترنے والے آج اپنی خالص نظریاتی سوچ ،مضبوظ کمٹمنٹ اور پختہ حوصلے کے ساتھ قوم کی نمائندگی کا فریضہ ادا کرنے کے لئے ہراول دستے میں شامل ہورہے ہیں اور اس کسوٹی نے جس طرح نام نہاد قوم پرستی کے دعویداروں کو قوم سے الگ کرکے ان کی اصل شبیہ قوم کے سامنے عیاں کردی، اسی طرح قومی تحریک کے نام پر ذاتی مفادات کی تگ و دو میں مصروف عناصر کی بھی حقیقت واضح ہوتا جارہاہے اور یہ عمل مسلسل ہے۔ آج بلوچ قومی سیاست دوواضح حصوں میں بٹ چکاہے ایک جانب وہ پارٹیاں ہیں جو فورسز،اس کے خفیہ اداروں کے لئے کام کرتے ہیں اور جو بلوچ قوم کی نسل کشی اورقومی وسائل کی سودا بازی میں مصروف ہیں تو دوسری جانب قومی آزادی کی تحریک ہے جو بلوچ قوم کی مدد و تعاون سے ریاست کے ساتھ ساتھ اس کے باجگزار پارٹیوں کا مقابلہ بھی کررہا ہے ۔ہماری قومی جدوجہدآزادی میں پارٹی پلیٹ فارم اور اداروں کی تشکیل تحریک کے موجودہ ابھارمیں بنیادی عنصر ہے اور اکابرین نے پارٹی سیاست کی خشت اول رکھنے اور قوم کو پارٹی سیاست اور اداروں کی تشکیل اور فعالیت کی جانب گامزن کیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم اداروں کی بنیادی ساخت اور سمت متعین کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں اورقوم کو پارٹی سیاست کے مکمل دائرہ کار میں لانے کے لئے کامیاب ہوجائیں گے ۔ جب قومی تحریکِ آزادی محض شخصیات پر انحصا راوراداروں کے بغیرآگے بڑھے توایسا ماحول بن جاتا ہے جو محض وارلارڈز کو جنم دیتا ہے۔ اس حقیقت کے پیش نظر بلوچ نیشنل موومنٹ کی قیادت اپنی اتحادیوں سے ہم آہنگ ہوکر ہمیشہ قومی تحریک کو کامیابی سے منزل کی جانب لیجانے کے لئے اداروں کی مضبوطی اور استحکام کے موقف پر قائم رہے گااور ہمارے تعلقات بھی اسی فلسفے کے تناظر میں طے ہوں گے جس سے انحراف ناممکن ہے اورہم دیکھ رہے ہیں کہ ہمارافکر کامیاب ہورہا ہے ۔جب ہم مجموعی صورت حال کا تجزیہ کرتے ہیں تو اس کی بنیادی وجہ بلوچ قوم کی وہ تاریخی سمت کا تعین ہے جس کا منطقی منزل قومی آزادی ہے اور اس کی حصول کے لئے تحریک کو بنیادی طورپر سیاسی میدان میں منظم کرنے اوراس پر انتہائی سخت گیری سے قائم رہناوہ موثر حکمت عملی ہے جس نے دشمن کوآج باؤلا کردیا ہے ۔وہ علاقے جہاں قومی آزادی کی جدوجہد زیادہ جڑ پکر چکا ہے وہاں جارحیت کے ساتھ ساتھ دشمن کے تشکیل کردہ فورسز کے متوازی جرائم پیشہ عناصر پر مشتمل ڈیتھ سکواڈزکو منظم اور فعال کرکے بلوچ نسل کشی اور ظلم وجبر کی کھلی چھوٹ دی گئی ہے۔آج اس نے بلوچ قوم پر ایسی ظلم و جبر اوردرندگی اور انسانیت سوزمظالم کا سلسلہ شروع کیا ہے۔