کوئٹہ : بی این پی کے رہنماؤں نے کہا کہ پارٹی کی کارکن اپنے جملہ توانائیوں کو پارٹی کی تنظیم سازی اور عوام کی سماجی اور بنیادی مسائل کو حل کر نے پر مرکوز رکھے پارٹی نے ہمیشہ یہاں کے عوام کی مشکلات اور مسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے ہر فورم پر ان مسائل کو حل کر نے پر حکمرانوں کی توجہ مبذول کرائی کوئٹہ کی سطح پر مرکزی رہنماؤں کی عوامی رابطہ مہم کی سلسلے میں منعقدہ کارنر میٹنگ اور عوامی اجتماعات کو کامیاب بنا کر یہ ثابت کر دے کہ بی این پی حقیقی معنوں میں یہاں کے باشعور عوام کی نمائندہ جماعت اور حقوق ترجمانی کر تے چلے آرہے ہیں ان خیالات کا اظہار کوئٹہ سٹی کے یونٹوں کے عہدیداروں کی اجلاس سے خطاب کر تے ہوئے ضلعی صدر اختر حسین لانگو ، مرکزی ہیومن رائٹس سیکرٹری موسیٰ بلوچ ، مرکزی کمیٹی کے رکن وضلعی جنرل سیکرٹری غلام نبی مری ، نائب صدر میر غلام رسول مینگل ، ضلعی جوائنٹ سیکرٹری محمد لقمان کاکڑ،اور دیگر نے خطاب کر تے ہوئے کیا یہ اجلاس گزشتہ روز پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ میں منعقدہوا جس میں کوئٹہ سٹی کے عہدیداروں نے کثیر تعداد نے شرکت کی اجلاس میں تنظیمی امور اور پارٹی رہنماؤں کے کوئٹہ سٹی میں دورے کے موقع پر منعقدہ کارنر میٹنگز اور دیگر سماجی مسائل کا جائزہ لیا گیا اور مختلف کمیٹیاں تشکیل دی گئی انہوں نے کہا کہ آج اس مشکل وقت میں یہاں کے باشعور عوام کی نظریں صرف اور صرف بی این پی کی جدوجہد اور اصولی موقف پر مرکز ہے کیونکہ پارٹی نے ہمیشہ یہاں کی عوام کی بنیادی ضروریات زندگی تعلیم،صحت،روزگار اور دیگر مسائل کے حل کیلئے بھر پور انداز میں آواز بلند کی اور عوام کو کبھی بھی ناانصافیوں سماجی حقو ق کے حصول کیلئے تن وتنہا نہیں چھوڑا یہی وجہ ہے کہ آج پارٹی یہاں کے لو گوں میں ہر دل عزیز قومی جماعت اور پذیرائی میں اضافہ ہورہا ہے انہوں نے کہا کہ پارٹی کے کارکنان قومی حقوق کے حصول کے جدوجہد کی ساتھ ساتھ یہاں کے لوگوں کی خدمت کیلئے اپنے خدمات کو سرانجام دے کیونکہ ہم لو گوں کی خدمت کو عبادت کا حیثیت دیتے ہوئے اجتماعی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں انہوں نے کہا کہ موجودہ حکمرانوں کے قول وفعل میں تضاد ہے اور حکمران یہاں کے لوگوں کی مسائل کو حل کر نے کی صلاحیت سے محروم ہے آج کوئٹہ شہر میں مسائل میں آئے روز اضافہ ہوتا چلے جا رہے ہیں لوگ بوند بوند پانی کیلئے ترس رہے ہیں لوگوں کو مکمل طور پر ٹینکر مافیا کے حوالے کیا گیا ہے جو غریب لو گوں کے وسائل نہایت ہی بے دردی سے لوٹا جارہا ہے انہوں نے کہا کہ پرائیویٹ سکولوں کی بھاری فیسز کو غریب طالب علموں کے ساتھ ناانصافی اور زیادتی سمجھتے ہوئے مذمت کی کہ ایک سوجے سمجھے منصوبے کے تحت غریب لو گوں کیلئے تعلیم کے دروازے بند کئے جارہے ہیں ایک طرف ایمرجنسی تعلیم کے نام پر بلند وبانگ دعوے کئے جاتے ہیں تو دوسری طرف آج بھی کوئٹہ جوکہ بلوچستان کی درالحکومت ہے یہاں کے اکثرسکولوں میں کتب اور دیگر ضروریات زندگی دستیاب نہیں ہے جوکہ حکمرانوں کی تعلیم بلند وبانگ دعوے کو واضح کر تاہے انہوں نے کہا کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا سندھ کی اسمبلیوں نے پرائیویٹ سکولوں میں بھاری فیسز پر آواز بلند کی اور قراردادیں پاس کرائے لیکن بلوچستان صوبائی اسمبلی میں غریب لو گوں کو تعلیم کیلئے کوئی پلان اور حکمت کیلئے کوئی آواز بلند نہیں ہو رہا۔