کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ پارٹی نے ہمیشہ بلوچ عوام اور بلوچستان کے قومی ایشوز پر واضح اور اصولی موقف اختیار کرکے حکمرانوں کے جاری توسیع پسندانہ پالیسیوں کے خلاف آواز بلند کی اور ہر فورم پر سیاسی اور جمہوری انداز میں قومی جدوجہد کو آگے بڑھایا یہی وجہ ہے کہ آج یہاں کے باشعور عوام پارٹی کی جدوجہد اصولی موقف قربانیوں اور سیاست کو قدر کی نگاہ دیکھتے ہوئے درست سمجھتے ہیں اور بی این پی کی قافلے میں شامل ہو تے جا رہے ہیں گوادر کی مسئلے کے حوالے سے اسلام آباد میں منعقدہ آل پارٹیز کا اہتمام کیا جس میں ملک کی تمام سیاسی ، جمہوری اور مذہبی جماعتوں نے گوادر سے متعلق پارٹی کی موقف کو درست سمجھتے ہوئے حکمرانوں سے مطالبہ کیا کہ گوادر کی تمام اختیارات بلوچستان کی عوام کے پاس ہونا چا ہئے جب تک قوموں کی حقوق واک واختیار تہذیب وتمدن کی حق حاکمیت کو تسلیم نہیں کیا جائیگا اس وقت تک آنیوالے بحرانوں سے کسی بھی صورت میں قابو نہیں پایا جاسکتا موجودہ نام نہاد جمہوری دور حکومت میں بھی بی این پی کے سیاسی نہتے کارکنوں کی قتل وغارت گری ، ماروائے عدالت گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے تاکہ بزور طاقت بی این پی سیاسی قوت کو کچلایا جا سکے لیکن یہ حکمرانوں کی غلط فہمی ہے کہ وہ ایسے منفی اوچھے ہتھکنڈوں کے ذریعے بی این پی کی جدوجہد کو زیر کر سکے افغان مہا جرین کی موجودگی میں کسی بھی صورت میں آنیوالے مردم شماری کے نتائج کو تسلیم نہیں کرینگے کوئٹہ سمیت مختلف علاقوں میں نادرا کے سینٹرز پر جعلی شناختی کارڈ، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات میں ملوث اہلکاروں کی گرفتاریاں بی این پی موقف کی تائید کر تا ہے یہاں کے باشعور عوام متحد اور منظم ہو کر بی این پی کی جدوجہد جوکہ خالصتاً قومی واک واختیاراور ساحل وسائل پر حق حاکمیت کیلئے مضبوط بنائے ان خیالات کا اظہار کوئٹہ میں پارٹی کے مرکزی رہنماؤں کی دورے کی سلسلے میں شروع کی گئی لانگو ہاؤس منوجان روڈ ہدہ میں عوامی اجتماع اور کارنر میٹنگز سے خطاب کر تے ہوئے پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر ملک عبدالولی کاکڑ ،مرکزی سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ، مرکزی لیبر سیکرٹری منظور بلوچ،ہیومن رائٹس سیکرٹری موسیٰ بلوچ،مرکزی کمیٹی کے اراکین ملک عبدالرحمان خواجہ خیل،میر جمال لانگو، ضلعی صدر اختر حسین لا نگو نے خطاب کر تے ہوئے کیا اس موقع پر اسٹیج سیکرٹری کے فرائض پارٹی کے مرکزی کمیٹی کے رکن وضلعی جنرل سیکرٹری غلام نبی مری نے سرانجام دیئے انہوں نے کہا ہے کہ بی این پی نے ہمیشہ قومی مفادات ساحل وسائل لاپتہ افراد اور بلوچستان میں جاری مظالم کے خلاف آواز بلند کی اس کے پاداش میں ہمیشہ پارٹی کے کارکنوں کو قتل وغارت گری نشانہ بنایا پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل حبیب جالب بلوچ سے لے کر 90 کے قریب کارکنوں کو شہید کیا اور پارٹی کی سیاسی جمہوری جدوجہد کا راستہ روکنے کیلئے مختلف ہتھکنڈے اپنائے گئے لیکن اس کے باوجود آج بھی پارٹی بہتر انداز میں نیشنلزم کی فکر وفلسفے اور قوم وطن دوستی کی سیاست کو آگے بڑھانے میں مصروف عمل ہے گزشتہ 68 سالوں سے بلوچ اور بلوچستان کی عوام کے ساتھ مظالم کا سلسلہ جاری ہے ایسے مظالم رواں رکھے جا رہے ہیں جن کی کئی بھی مثال موجود نہیں ہے قدرتی دولت سے مالا مال خطے کی فرزندان آج بوند بوند پانی کیلئے ترس رہے ہیں اور زندگی کی تمام تر سہولیات سے محروم ہے جوکہ بد ترین استحصال کی منہ بولتا ثبوت ہے، بی این پی کے کارکنوں پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی کہ وہ اپنے سیاسی ، جمہوری اور نظریاتی سوچ وفکر کے ذریعے سے آنیوالے چیلنجز اور موجودہ کٹھن مشکل حالات میں عوام کو منظم اور قومی تحریک کی طرف راغب کر نے اپنے بھر پور کردار ادا کرے کیونکہ منظم ہوئے بغیر ہم کسی بھی صورت میں اپنے تشخص ، وطن کی حفاظت نہیں کر سکتے انہوں نے تاجر برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ پارٹی کے مرکزی کال پر پارٹی کارکنوں کے قتل وغارت گری ماروائے عدالت گرفتاریوں اور دیگر مظالم کیخلاف 8 اپریل کو بلوچستان بھر میں شٹرڈاؤن ہڑتال کو کامیاب بنا نے میں اپنا بھر پور کردار ادا کریں اس موقع پر بی این پی کوئٹہ کے سینئر نائب صدر یونس بلوچ،جوائنٹ سیکرٹری محمد لقمان کاکڑ،لیبر سیکرٹری ڈاکٹر علی احمد قمبرانی،احمد نواز بلوچ،آغا خالد شاہ دلسوز،جاوید بلوچ،حاجی عبدالباسط لہڑی،ہدایت اللہ جتک، شیر محمد لہڑی،منظور سمالانی،عبدالعزیز لانگو،کامران کیشانی،ڈاکٹر رب نواز مری،زبیراحمد مینگل،بی بی ماہدیم لانگو،آفتا بلوچ،حاجی پیرجان محمد شہی،حاجی محمد شریف سمالانی،حاجی محمد اشرف سمالانی، حاجی محمد رفیق سمالانی،ظفر نیچاری،خالد حسین لہڑی،نوراحمد بلوچ،ناصر کیشانی،شاہجہان کیشانی اور دیگر پارٹی کی کارکنان علاقے کے معزین بڑی تعداد میں موجود تھے۔