کوئٹہ: سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچ تاریخ کے مشکل ترین سے گزر رہا ہے قومی بقاء اور استحکام کی جنگ میں تعلیمی بنیادی کردار ادا کر سکتا ہے دنیا تیزی کے ساتھ آگے کی جانب بڑھ رہا ہے اور بلوچ اپنے لئے مشکلات ومسائل پیدا کر کے ترقی کے دور میں پیچھے رہ گیا ہے بلوچ کی بقاء کیلئے تعلیم اور سیاست میں جمہوری حکمت عملی سے ہی نجات کی امید پیدا ہو سکتی ہے ان خیالات کا اظہار نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماء و سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے سور بند میں کارکنوں کے بڑے جلسے سے خطاب کر تے ہوئے کیا سوربند پہنچنے پر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کا شاندار استقبال کیا گیا سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے ساتھ ان کے پولٹیکل سیکرٹری خیر جان بلوچ، ڈاکٹر اسحاق بلوچ، محراب مری، عبدالرزاق پندرانی، علی حسن جاموٹ، اکرم رمضان، کہدہ علی، منظور بلوچ چیئرمین جیونی، ہارون بلوچ، واجہ ابوالحسن اور فیض نگوری بھی موجودتھے جلسہ عام سے بابو گلاب چیئرمین ضلع کونسل گوادر، علی حسن جاموٹ ، بی ایس او کے رہنماء محمد جان ، میونسپل کمیٹی گوادر کے چیئرمین عابد سہرابی اور یونٹ سیکرٹری یعقوب بلوچ نے بھی خطاب کیا ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ بلوچ تاریخ کے مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے لیڈر شپ گروہی معاملات میں الجھا ہوا ہے قومی سوچ کمزور ہو تا جا رہا ہے بلوچستان میں مسلح جدوجہد نے ہمارے تمام اداروں کیلئے مسائل پید کیا ہے تعلیم وکاروبار تباہ ہو چکا ہے بلوچستان میں جمہوری سیاست کر نا مشکل بنا دیا گیا ہے قوم پرستی کی سیاست کی جگہ رجھتی عناصر سامنے آرہے ہیں تعلیمی ادارے تباہ ہو چکے ہیں نوجوان کے ہاتھوں سے قلم لے کر ہتھیار دیا گیا ہے لوگ نقل مکانی کر رہے ہیں، کاروبار کو تباہ کر دیا گیا ہے جبکہ بیرونی طور پر پورے ملک ودنیا کی نظریں گوادر پر لگی ہیں پاک چین کوریڈور اور گوادر پورٹ میں جاری معاشی سر گرمیوں میں حصہ لینا اور مقامی آبادی کے حقوق کی حفاظت اورقومی تشخص کی بقاء کی جنگ میں نیشنل پارٹی ہر اول دستے کا کردار ادا کر رہے ہیں بلوچستان کے لوگ بچوں کی تعلیم پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں اور کاروبار پر توجہ دیں۔