کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی میں ڈاکٹروں پر پولیس تشدد کے خلاف تحریک التواء بحث کیلئے منظور نہ ہونے پر اپوزیشن اراکین نے اجلاس سے واک آؤٹ کیا اپوزیشن اراکین کے علاوہ نیشنل پارٹی کے ڈاکٹر شمع اسحاق اور پشتونخوامیپ کے عارفہ صدیق اور معصومہ حیات نے بھی ایوان سے بطور احتجاج واک آؤٹ کیااپوزیشن ارکان ایوان سے شیم شیم کے نعرے بلند کر تے ہوئے واک آؤٹ کر گئے بلوچستان اسمبلی کا اجلاس اسپیکر راحیلہ حمید درانی کی صدارت میں اجلاس میں اپوزیشن کی جانب سے ڈاکٹروں پر تشدد ، لاٹھی چار ج کے حوالے سے3 تحریک التواء ایوان میں پیش کئے اپوزیشن لیڈر مولانا عبدالواسع نے تحریک التواء پیش کر تے ہوئے کہا ہے کہ ینگ ڈاکٹرز اپنے مطالبات کے حق میں ایک پرامن ریلی نکالی تھی کے انتظامیہ کی جانب سے ان پر شیلنگ وفائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں متعدد ڈاکٹرز شدید زخمی ہوئے اور متعدد گرفتار کر گئے جس کی وجہ سے ڈاکٹرز ہڑتال پر ہے اور اس ہڑتال کی وجہ سے مریض اور عوام متاثر ہے اپوزیشن رکن شاہدہ روف نے ڈاکٹروں کے احتجاج کے حوالے سے تحریک التواء پیش کر تے ہوئے کہا ہے کہ ینگ ڈاکٹروں کا ہسپتالوں میں اصلاحات لانے کا مطالبہ اور اس سلسلے میں نکالی جانیوالی پرامن ریلی پر انتظامیہ کی جانب سے کی جانیوالی تشدد کے نتیجے میں کئی ڈاکٹرز زخمی اور ڈاکٹر اسد تشدد کی وجہ سے آنکھوں کی بینائی سے محروم ہوگئے اب ڈاکٹرز نے او پی ڈیز اورپولیو مہم کے بائیکاٹ کا اعلان کیا اپوزیشن رکن حسن بانو نے تحریک التواء پیش کر تے ہوئے کہا ہے کہ ینگ ڈاکٹروں کی جانب سے اپنے مطالبات کے حق میں نکالی جانیوالی ریلی کی شرکاء پر پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج اور فائرنگ کی گئی لہٰذا اسمبلی کی کارروائی روک کر اس اہم اور عوامی نوعیت کے حامل مسئلے کو زیر بحث لایا جائے صوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ حکومت نے ڈاکٹروں سے مذاکرات شروع کئے ہیں اور جلد ہی کوئی نتیجہ نکل جائیگا اور اپوزیشن کی جانب سے احتجاج سمجھ سے بالاتر ہے ڈاکٹروں نے 12 اپریل کو ریلی نکالنے کا اعلان کیا تھا لیکن 7 اپریل کو ریلی نکالی گئی اور اس وجہ سے حالات خراب ہوئے اور حکومت نے اسی رات ڈاکٹروں سے مذاکرات کی اور ڈاکٹر اسد کو بذریعہ طیارہ فوری طور پر کراچی منتقل کیا صوبائی وزیر صحت رحمت صالح بلوچ نے کہا ہے کہ اگر اپوزیشن الزام لگا رہے ہیں کہ یہ ان کے بچے ہیں تو ہمارے بھی بچے ہیں حکومت نے ہمیشہ ڈاکٹروں کیساتھ تعاون کیا اور سیکورٹی خدشات کی وجہ سے ڈاکٹروں کی ریلی کو بلوچستان اسمبلی آنے نہیں دیا اور میں ان تمام وزراء، اراکین اسمبلی جن میں عبدالرحیم زیارتوال ، سرفراز بگٹی، معصومہ حیات،عارفہ صدیق کے مشکور ہوں کہ انہوں نے بروقت ڈاکٹروں سے مذاکرات کئے انہوں نے کہا ہے کہ ڈاکٹروں سے مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے اور پولیو مہم کو بھی ڈاکٹروں کے ہڑتال کے باوجود مکمل کیا سرکاری ہسپتالوں میں اگر ادویات کی کوئی قلت ہو تی تو عوام سڑکوں پر نکل آتے ایم ایس ڈی میں ادویات موجود ہے سول ہسپتال کے او پی ڈیز کو بند کر نا پرائیویٹ ما فیا کو فائدہ پہنچانا تھا کوئٹہ کے ایک نجی ہسپتال کی میڈیکل اسٹور کو ماہانہ 20 لاکھ روپے ماہانہ کرایہ پر دیا ہے عوام کو نہیں لوٹا جا رہا تو اور کیا اپوزیشن سیاست چمکانے سے گریز کرے اسپیکر نے متعلقہ تحریک التواء کے منظوری کے حوالے سے ایوان میں رائے شماری کی اور مطلوبہ اکثریت نہ ہونے پر ایوان نے اپوزیشن کی جانب سے تینوں تحریک التواء کو مسترد کر دیاجس پر اپوزیشن نے ایوان سے واک آؤٹ کیا اور شیم شیم کے نعرے لگائے ایوان سے باہر چلے گئے اور ساتھ ہی حکومت میں شامل نیشنل پارٹی کی خاتون رکن ڈاکٹر شمع اسحاق، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے خواتین اراکین معصومہ حیات اور عارفہ صدیق نے بھی بطور احتجاج واک آؤٹ کیا ۔