کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی بیان میں کہا گیا ہے کہ بلوچ مسئلہ طاقت اور سروں کی قیمتیں مقرر کرنے سے حل نہیں ہو گا قلات جوہان سمیت بلوچستان کے دیگر علاقوں میں آپریشن قابل مذمت ہے طاقت کے استعمال سے مسائل حل نہیں بلکہ جنم لیتے ہیں ماضی میں بھی بلوچ مسئلے کو آمر و سول ڈکٹیڑوں نے بزور طاقت حل کرنے کی کوشش کی مگر نتائج مثبت برآمد نہ ہوئے ماضی میں آپریشن ، قید و بند ، بلوچ نسل کشی ، انسانی حقوق کی پامالی کیلئے ریاستی مشینری کا بے دریغ استعمال کیا گیا اور بلوچوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کیلئے ہر اقدام اٹھایا گیا جبر و استبداد سے گریز نہیں کیا گیا اس کے باوجود بلوچ کو صفحہ ہستی سے مٹانا ممکن نہیں بن سکابی این پی کسی بھی انسان کے قتل کی مذمت کرتی ہے مشرف کی پالیسیوں کودوام دینے کا سلسلہ تسلسل سے جاری ہے قوموں کو جبرو استبداد اور طاقت کے زیر کرنا ممکن نہیں ہوتا بلوچ مسئلے کو حل کرنے کے حکمرانوں کے دعوے بار آور ثابت نہیں ہو رہے حکمرانوں کے اقدامات دعوؤں کے برعکس ہیں مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی ، انسانی حقوق کی پامالی کا سلسلہ بند ہونے کے بجائے اس میں تیزی لائی جا چکی ہے دعوؤں کے برعکس اقدامات کئے جا رہے ہیں ماورائے عدالت قتل و غارت گری اور آمریت کا دور دورہ ہے طاقت کا بے جا استعمال اور بلوچوں کو زیر کرنے کی پالیسی کو ختم کرنے کی بجائے اس میں شدت آ گئی ہے حکمران کی جانب سے برملا دعوؤں سے نفرتیں ہی بڑھیں گی بیان میں کہا گیا ہے کہ آج بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بڑھی تیزی کے ساتھ بلوچوں کو نیست و نابود کرنے کیلئے ناختم ہونے والا آپریشن شدت کے ساتھ جاری ہے حالانکہ حکمران جب اقتدار پر براجمان ہوئے تو انہوں نے بلوچ مسئلے کو حل کرنے کیلئے مذاکرات کا راستہ اپنانے کی باتیں کیں لیکن آج اس کے برعکس ہو رہا ہے اور اب بھی بلوچستان میں تمام اقدامات میں طاقت کا سہارا لیا جا رہا ہے ماضی میں طاقت کے بے جا استعمال کیا گیا جس سے نہ مسئلے ختم ہوئے نہ حل ہوئے بلکہ اس سے دوریاں اور نفرتیں بڑھیں انسانی حقوق کی پامالی اور بندوق کے نوک پر مسائل کا حل کرنا ممکن نہیں بی این پی نے بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالی اور ماورائے عدالت قتل و غارت گری ، ٹارگٹ کلنگ ، بے گناہ نہتے انسانوں کے قتل و عام کی مذمت کی تاکہ بلوچستان میں کسی بھی طبقہ فکر کے ساتھ ناانصافی نہ برتی جائے بیان میں کہا گیا ہے کہ سروں کی قیمتیں مقرر کرنے سے بلوچستان کا مسئلہ حل ہو گا اس سے احساس محرومی اور نفرتوں کا جنم لینا فطری عمل ہو گا ہونا تو یہ چاہئے کہ فوری طور پر بلوچستان میں آپریشن ، ماورائے عدالت قتل و غارت گری ، انسانی حقوق کی پامالی کا سلسلہ بند کرتے ہوئے لاپتہ افراد کی بازیابی کو یقینی بناتے ہوئے بلوچستان کے معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کیا جائے بیان میں کہا گیا ہے کہ پارٹی نے اس سے قبل بھی بلوچستان میں بلا رنگ و نسل قومیت اور فرقے کے افراد کے قتل وغارت گری کو نفرت کی نگاہ ہے حکمران بروز طاقت بلوچ مسئلہ حل کرنا چاہا رہے ہیں تو یہ ان کی خام خیالی ہے ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ آپریشن بند کر کے افہام و تفہیم سے مسائل کو حل کیا جائے اس کے برعکس بلوچ مسئلے کو حل کرنے کے دعوے بے بنیاد ہی ثابت ہونگے مذاکرات کے من گھڑت دعوؤں سے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنا ممکن نہیں حکمرانوں کے اصل عزائم اور چہرے عوام کے سامنے عیاں ہوتے جا رہے ہیں امن و امان کی بحالی ہر شہری کی خواہش ہوتی ہے لیکن اس کے آڑ میں روزانہ بلوچوں کی لاشیں گنتی کرنے کے عمل قابل تشویش ہے حکمران بلوچوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے دعوؤں سے گریز نہیں آمر حکمران ہوں یا سول ڈکٹیٹر آتے ہی عوام کے زخموں پر مرہم رکھنے کے دعوے تو کرتے ہیں لیکن بعد میں مرہم نہیں زخم دے کر چلے جاتے ہیں طاقت اور گولی کی زبان میں بلوچوں سے بات کی جا رہی ہے اسی طرح سارونہ اور شاہ نورانی کے دلخراش واقعات سے بھی بلوچستان کا ہر ذی شعور واقف ہے کہ بلوچستان میں ماورائے عدالت قتل و غارت گری ، گرفتاریوں کا دور دورہ ہے بے دردی کے ساتھ انسانی حقوق کی پامالی کی جا رہی ہے بیان میں کہاگیا ہے کہ قلات سمیت بلوچستان کے دیگر علاقوں میں آئے روز آپریشن جاری ہے اس کا سلسلہ روکنا چاہئے بلوچستان میں نام نہاد لولی لنگڑی جمہوری حکومت بے اختیار نظر آ رہی ہے تمام اختیارات سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں میں ہیں جو بلوچوں کے خلاف طاقت کا بے جا استعمال کر رہے ہیں ۔