|

وقتِ اشاعت :   April 12 – 2016

کوئٹہ: بلوچ ریپبلکن پارٹی کے مرکزی ترجمان شیر محمد بگٹی نے کہا ہے کہ دو دن قبل پنجگور کے علاقے پل آباد میں ڈیتھ اسکوارڈ کے کارندوں نے دن دیہاڑھے ایک گھر میں گھس کر اندھا دھند فائرنگ کر کے نعیم بلوچ کو ان دو بیٹوں، اہلیہ اور خاندان کے سات افراد شہید کردیا ہے خواتین اور بچوں پر حملہ کر کے انہیں اس طرح درندگی کا نشانہ بنانا فورسز کے مظالم کی واضح مثال ہے ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ ایسے قدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریاست نے طے کیا ہے کہ بلوچ قوم کوصفحہ ہستی سے مٹانا ہے انہوں نے کہا کہ جوہان میں فورسز کے ہاتھوں شہید ہونے والے تمام افراد نہتے تھے اور بعض لاپتہ افراد تھے ہلاک کیئے جانے والے افراد میں سے ایک کی شناخت حاجی وارث لہڑی کے نام ہوئی ہے جو ایک مالدار شخصیت تھے جن کو فورسز نے مزاحمت کار کردار دیکر گولیوں سے بھونڈ ڈالا ترجمان نے کہا کہ بلوچستان میں سنگین انسانی حقوق کی پامالیوں پر انسانی حقوق کے تنظیمو ں کی خاموشی افسوس ناک ہے دو دن کے اِندر پنجگور، ڈیرہ بگٹی ، مستونگ اور قلات میں 47افراد کوبے دردی سے ہلاک کردیاگیا لیکن نام نہاد ایچ آر سی پی سمیت کسی بھی انسانی حقوق کے ادارے نے اتنے بڑے پیمانے پر لوگوں کی ہلاکت پر اپنی طرف سے کوئی تحقیقات نہیں کی ہے جو نہات ہی افسوسناک عمل اور ان اداروں کی خاموشی کا فائدہ فورسز اٹھا کراپنی کارروائیوں کو مزید تیز کررہی ہیں۔