|

وقتِ اشاعت :   April 20 – 2024

آرٹس کونسل کراچی میں منعقدہ ایک پروگرام میں جانے کا اتفاق ہوا تو وہاں ہنرمند افراد کی بنائی ہوئی چیزوں کی نمائشی ہو رہی تھی۔ ایک اسٹال مزری سے بنے آئٹم کا تھا۔ اسٹال کے اونر نے کہا کہ وہ ایک آرگنائزیشن چلا رہی ہیں آرگنائزیشن کا کام خواتین کو ہنر مند بنا کر انہیں اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہے۔ اس وقت ان کی آرگنائزیشن مزری کوبروئے کار لا رہی ہے اور ان سے مختلف قسم کی چیزیں بنوا کر انہیں بیچ رہی ہے۔ایک آئٹم ٹی کپ پیڈ تھا میں نے قیمت پوچھی تو انہوں نے 150 روپے بتائی، یہ بات چند سال پہلے کی ہے، اب غالبا ًاس کی قیمت بڑھ چکی ہو گی۔ مزری لاتے کہاں سے ہو؟ جواباً انہوں نے کہا کہ بلوچستان سے۔
مزری ایک قدرتی نباتات ہے جو سنگلاخ وادیوں اور پہاڑیوں میں نمو پاتا ہے۔ ماحولیاتی نظام کو بیلنس رکھنے میں اس کا بڑا کردار ہے۔ آواران کی زمینی ساخت مزری کے پودے کو پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ لیکن انسانی عمل دخل، کٹاؤ میں تجاوز اور بدلتے موسمی صورتحال نے اس کی بڑھوتری کو کافی نقصان پہنچایا ہے۔ آبادی کا ایک قلیل حصہ ذریعہ معاش کے لیے اسی خودرو نباتات پر انحصار کرتی ہے۔ بالخصوص خواتین دستکاری کے لیے اورہنرمند اپنا معاشی نظام بہتر بنانے کے لیے اسی پر انحصار کرتی ہیں۔
2009 میں این آر ایس پی اور یو این ڈی پی کے مابین آواران میں “سسٹین ایبل لینڈ منیجمنٹ پراجیکٹ” کا آغاز ہوا، پراجیکٹ کو یونین کونسل گیشکور میں لانچ کیا گیا۔ منصوبے کا مقصد مزری کے جنگلات کو تحفظ فراہم کرنا، ماحولیات کا بچاؤ اور مزری کے شعبے سے وابستہ افراد کو ہنرمند بنا کر انہیں مارکیٹ کا حصہ بنانا تھا۔ گو کہ مزری کی اہمیت وا فادیت کو اجاگر کرنے کے حوالے سے یہ ایک بہت بڑا منصوبہ تھا مگر نتائج نہیں دے سکا ،ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اسے باقاعدہ طور پر پروگرام کا حصہ بنا کر پورے ضلع تک پھیلایا جاتا اور اس پروجیکٹ کو پروگرام میں تبدیل کرکے اس کا روڈ میپ تیار کیا جاتا۔ تاکہ منصوبہ ختم ہونے کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رہتا لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔
ضلع بھر باالخصوص جاھو میں مزری کے جنگلات انسانی بھوک کے چھتری تلے کٹ رہے ہیں۔ مزری کے جن جن سرحدات پر وارثین نے ڈیرے ڈالے ہیں وہ ان کی کٹائی کرتے ہیں پھر گاڑیاں بھر کر انہیں کراچی کے علاقے رئیس گوٹھ میں اونے پونے داموں فروخت کرتے ہیں۔ اگر انہی سے آئٹم بنا کر بیچتے تو زیادہ اچھا ہوتا کہ ایک تو مزری کے جنگل کو وسیع پیمانے پر تباہ ہونے سے بچایا جاتا اور دوئم یہ کہ کم میٹیریل سے زیادہ منافع کرکے اپنی معاشی نظام کو دوام دے دیتے۔۔
مزری کے پتوں کو کاٹ کر خشک کیا جاتا ہے پھر ان کو بذریعہ ٹرک مارکیٹ لے جایا جاتا ہے۔۔ مزری کے کاروبار سے منسلک افراد کہتے ہیں کہ ایک ٹرک میں ڈھائی لاکھ کے قریب مزری کے پتے لے جانے کی گنجائش ہوتی ہے۔ جس لنک روڑ پر میرا گھر واقع ہے میں اسی لنک روڈ پر روزانہ کی بنیاد پر گاڑیوں کو مزری کے پتوں سے لدھاجاتا ہوا دیکھتا ہوں تو خیال آتا ہے کہ ہم اپنی زمین کا کتنا نقصان کر رہے ہیں اور وہ ساہ دار(جانور) جن میں خرگوش بھی شامل ہے انہیں ان کی مسکنوں سے بے دخل کرکے ہم ماحول کو کتنا نقصان پہنچا رہے ہیں۔ سردیوں کے سیزن میں ان سے پیدا ہونے والی کونر کی میوہ جات ان سے چھین رہے ہیں۔ مقامی افراد بتاتے ہیں کہ مزری کے پودے کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے میں ایک سال لگتا ہے جوںہی وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو کر لہلہانا شروع کرتے ہیں ان کی خوشی عارضی ہو جاتی ہے انسانی بھوک اور لالچ کی زد میں آکرپھر مرجھا جاتے ہیں۔۔
کسی زمانے میں مزری کے شعبے سے وابستہ ہنرمند بڑی تعداد میں پائے جاتے تھے۔ یہ ہنرمند مزری سے نہ صرف اپنا معاشی سسٹم چلایا کرتے تھے بلکہ یہ لوگ مزری کے محافظ بھی تھے اور انہوں نے کم پتوں سے بہت سارا مٹیریل جن میں چٹائی، رسیاں، سپت، کوتک، پات، چپل، جائے نماز اور جدا جدا قسم کی مٹیریل بنا کر اپنی ضرورتیں پوری کیا کرتی تھیں اور ساتھ ساتھ سماج کو ماحول دوست آئٹمز کا تحفہ دے دیتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ کھجور کا فصل جب پک جاتا تھا تو اسے مزری کے آئٹم میں پیک کیا جاتا تھا اس آئٹم کی تاثیر کھجور کے فصل کو خراب نہیں ہونے دیتی تھی۔ گوادری حلوہ جو آج کل ڈبوں میں پیک ہو کر آرہا ہے کسی زمانے میں مزری کے آئٹم میں پیک ہوا کرتا تھا حلوہ کبھی خراب نہیں ہوتا۔۔ مزری کی چٹائی پر بیٹھیں یا پلاسٹک کی، دونوں کی تاثیر میں فرق ہے۔ بے شمار مثالیں ہیں جو مزری کے آئٹمز کی ماحول دوست ہونے کی ثبوت فراہم کرتے ہیں۔
وقت کے ساتھ ہنرمندوں کی تعداد کم ہوتی چلی گئی۔ کم ہونے کی بڑی وجہ مزری سے بنے مٹیریل میں جدت کا فقدان تھا۔ جن روایتی طریقوں سے چیزیں بنی آرہی تھیں اسی حساب سے برقرار رہیں۔ مزری کے آئٹمز کو مارکیٹ کا درجہ بھی نہیں ملا اور نہ ہی اس جانب کوششیں کی گئیں یا یہ کہ مزری کے آئٹمز میں جدت کس طرح لائی جائے ۔جس طرح مارکیٹوں میں ہر اشیاء کو وقتا ًفوقتا ًتبدیل کرکے سامنے لایا جاتا ہے آپ لائف بوائے صابن ہی کی مثال لے لیں کہ ایک دور ایسا آیا کہ یہ پراڈکٹ اپنی وقعت کھو بیٹھا۔ کمپنی نے زاویے بدل ڈالے ، رنگ تبدیل کر ڈلے ،خوشبو کے طریقہ کار بدل ڈالے ۔آپ مارکیٹ چلے جائیں تو لائف بوائے صابن ہر دکان کا حصہ ہے۔ چپل کے پراڈکٹس دیکھیں کمپنیاں ہر سال ان کے ڈیزائن چینج کرکے نئی نئی ورائٹی کی چیزیں مارکیٹ میں لاکر گاہکوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرواتی ہیں۔ مگر مزری کے شعبے کے ساتھ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا نہ ہی سرکاری سطح پر اور نہ ہی پرائیوٹ سطح پر۔ اور نہ ہی مزری کے ہنرمندوں کو جدتوں سے آشنا کرکے اس کے لیے مارکیٹ بنائی گئی ۔ ایسا کچھ بھی نہ ہوا جس کا خمیازہ مزری کے جنگلات کو اس کی بڑے پیمانے پر کٹائی کی صورت میں بھگتنا پڑ رہا ہے۔ جس کا اثر پہاڑی ایریاز کی ماحول پر پڑ رہا ہے۔۔
مزری کے جنگلات کو ہم سب نے بچانا ہے۔ یہ اس صورت میں بچا سکتے ہیں جب مزری کے پروڈکٹس کو مارکیٹ کا حصہ بنا کر اس شعبے سے وابستہ افراد کو معاشی طور پر مستحکم بنائیں گے اور مزری کے جنگلات کو کٹائی سے بچائیں گے۔