|

وقتِ اشاعت :   April 14 – 2016

اسلام آباد: قومی اسمبلی نے ہنگامہ آرائی اور طویل بحث و مباحثے کے بعد الیکٹرانک جرائم کے خاتمے کا بل 2015کثرت رائے سے منظور کرلیا، بل کے تحت سائبر سپیسکے دہشت گردی، فرقہ واریت، نفرت انگیز تقاریر و لٹریچر، جنسی جرائم ، دہشت گردی، فحش مواد کیلئے استعمال کو قابل سزا جرائم قرار دیا گیا ہے اور سزائیں تجویز کی گئی ہیں، مذکورہ جرائم میں زیادہ سے زیادہ 14سال اور کم از کم 6سال کی قید اور ایک کروڑ روپے تک کے جرمانے کی سزائیں شامل ہیں،بل میں تحریک انصاف ، جماعت اسلامی، پی پی پی اور ایم کیو ایم کی متعدد ترامیم منظور جبکہ بعض مسترد کی گئیں۔ بدھ کو وزیر مملکت برائے آئی ٹی انوشہ رحمان نے الیکٹرانک جرائم تدارک بل 2015منظوری کیلئے ایوان میں پیش کیا۔بل کی شقوں کے تحت دہشت گردی اور نفرت انگیز تقریر و مواد کو قابل تعریف بنا کر پیش کرنے پر 5 سال کی قید اور ایک کروڑ جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکیں گی، کسی شخص کی عزت اور وقار کے خلاف الیکٹرانک مواد تیار کرنے، شائع کرنے ،شہرت کو نقصان پہنچانے یا دھمکی آمیز مواد شائع کرنے پر تین سال کی قید یا 10لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں لاگو ہوں گی، شہرت کو نقصان پہنچانے، بلیک میل کرنے یا انتقام لینے کے فعل پر 7سال قید اور 50لاکھ جرمانے یا دونوں سزائیں سنائی جا سکیں گی، نابالغ کے خلاف اسی جرم میں یہ سزا14 سال قید و جرمانے کی ہو سکتی ہے۔ بل کی منظوری کے دوران (ن) لیگی رکن سردار اویس لغاری اور پی پی پی کی شازیہ مری اور تحریک انصاف کی شیریں مزاری اور (ن) لیگ کے کیپٹن صفدر کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ سردار اویس لغاری کی جانب سے قائمہ کمیٹی کی رپورٹ پیش ہونے کے بعد دوبارہ بل پر مشاورت کے لئے خصوصی کمیٹی بنانے اور تحریک انصاف اور پی پی پی ارکان کی طرف سے قائمہ کمیٹیوں کے اجلاسوں میں عدم شرکت کا معاملہ اٹھانے پر اپوزیشن ارکان اپنی نشستوں پر کھڑے ہو گئے اور شیم شیم اور نو نو کے نعرے لگائے، جس سے ایوان کا ماحول خراب ہو گیا اور ہنگامہ آرائی کی کیفیت پیدا ہو گئی، ڈپٹی سپیکر اور بعض وزراء کی کوششوں سے ایوان میں کشیدگی ختم کرائی گئی۔ اویس لغاری نے کہا کہ ان کا مقصد خصوصی کمیٹی کے کام کی اہمیت کم کرنا نہ تھا بلکہ وہ یہ چاہتے ہیں کہ قائمہ کمیٹیوں کو مضبوط کیا جائے اور تمام ترامیم وہیں پیش ہونی چاہیے تھیں۔ بعد ازاں بل کی شق وار منظوری کے دوران بل کی تمام 54 شقوں کو کثرت رائے سے منظور کیا گیا جبکہ اس دوران اپوزیشن کی زیادہ تر ترمیم کو حکومت کی طرف سے بل کا حصہ بنایا گیا جبکہ بعض ترامیم حکومت کی مخالفت پر ایوان نے کثرت رائے سے مسترد کر دیں، بل کی منظوری پر وزیر مملکت آئی ٹی انوشہ رحمان نے بل کی تیاری اور منظوری میں قائمہ کمیٹی کے چیئرمین کیپٹن صفدر، قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ اور کمیٹی کے تمام ارکان کے نام لے کر ان کا شکریہ ادا کیا۔ قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا کہ اختلافات کے باوجود مل جل کر بل منظور کرنا اچھی پارلیمانی روایت ہے، تاہم حکومت کو اس بل پر عملدرآمد کے حوالے سے نہایت احتیاط کرنی ہو گی، اگر اس بل کا بے رحمانہ استعمال کیا گیا تو انسانی حقوق اور شہری آزادیاں متاثر ہوں گی۔