کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اسلام آباد اے پی سی کی قراردادوں پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے ملکی سطح پر تمام پارلیمانی جماعتوں نے بھی قراردادوں کی حمایت کی تھی ان قراردادوں پر عملدرآمد کرواناسیاسی و اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے سردار اختر جان مینگل کی صدارت میں آل پارٹیز کانفرنس جو تاریخی اہمیت کا حامل تھا بلوچستان کے عوام کے خدشات و تحفظات کے ان پر اتفاق رائے پارٹی موقف کی تائید قراردیا جائے تو بے جا نہ ہو گا پارٹی قائد سردار اختر جان مینگل نے گوادر کے بلوچوں کو درپیش مسائل کی نشاندہی کی گوادر کے بلوچوں کو اقلیت میں تبدیل ہونے سے بچانے کیلئے قانون سازی کی جائے اور دیگر صوبوں سے آنے والے کو لوکل ‘ ڈومیسائل سمیت شناختی کارڈز کے اجراء پر پابندی اور انتخابی فہرستوں میں ناموں کا اندراج نہ کیا جائے قانون سازی کے ذریعے گوادر کے عوام کو تحفظ دیا جائے تاکہ شناختی کارڈز ‘ پاسپورٹ اور انتخابی فہرستوں میں مکمل ممانعت ہو اسی طرح گوادر پورٹ اور میگا پروجیکٹس کے تمام اختیارات بلوچستان کے پاس ہوں اور بلوچستان زیادہ بہتر انداز میں بلوچستان کے عوام کے خواہشات ‘ احساسات ‘ جذبات کا باریک بینی سے جائزہ لینے کی صلاحیت قیادت کے پاس ہے اسی طریقے سے گوادر کے عوام کو صاف پانی ‘ صحت ‘ تعلیم ‘ جدید یونیورسٹیز ‘ کالجز کے قیام کے ساتھ ساتھ مقامی ماہی گیر جو ہزاروں سالوں سے اسی شعبے سے وابستہ ہیں ان کو معاشی تنگ دستی سے بچانے کیلئے ماہی جی ٹی کے قیام کے ساتھ ساتھ پورٹ کے ملازمتوں میں مقامی بلوچ ‘ مکران اور بلوچستانی عوام کو ترجیح دی جائے تمام اختیارات جب بلوچستان کے پاس ہوں گے تو عوام کے مسائل حل ہو سکیں گے ماضی میں وفاقی محکموں میں بلوچستان کے کوٹے پر دیگر صوبوں کے لوگ بھرتی ہوئے بلوچستان کے عوام آج بھی کسمپرسی ‘ بدحالی اور معاشی استحصال کا شکار ہیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی قومی جمہوری سیاسی جماعت ہے جو حقیقی ترقی و خوشحالی کی ہرگز مخالفت نہیں کرتی لیکن یہ امر بھی ضروری ہے کہ آیا اس ترقی سے کہیں ہم اقلیت میں تبدیل تو نہیں ہوں گے ہماری قومی تشخص بقاء کی حفاظت کو یقینی بنانے اور گوادر سمیت بلوچستان کے تمام بڑے میگا پروجیکٹس جو بلوچ سرزمین پر ہیں ان میں اولیت بلوچ عوام اور بلوچستانیوں کو دی جائے اختیارات جو ملکی آئین کی روح سے بھی بلوچستان کا حق ہے دیگر صوبوں کی طرح ساحل وسائل پر بلوچستان کو بھی اختیارات دیئے جائیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی کی جدوجہد اصولوں پر مبنی ہے آج پارٹی کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ اسلام آباد میں اے پی سی کر کے گوادر کے بلوچوں کے مسائل کو اجاگر کیا اور حکمرانوں تک ان کی آواز پہنچا کر ثابت کیا کہ بلوچستان کے مسائل کا حل اولین ترجیح ہونی چاہئے ہماری سیاست کا محور و مقصد زبان ‘ ثقافت ‘ تہذیب ‘ تمدن کی حفاظت ہے ہماری جدوجہد جمہوری و قومی بنیادوں پر کاربند ہے مختلف ادوار میں پارٹی قیادت و کارکنوں کو مختلف طریقوں سے ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ اور قیدوبند کا سامنا کرنا پڑا پارٹی نے خندہ پیشانی سے تمام بحرانی حالات کا مستقل مزاجی سے جمہوری طریقے سے مقابلہ کیا پارٹی کے عظیم الشان جلسوں نے ثابت کر دیا کہ پارٹی بلوچستان کی ہردلعزیز جماعت بن چکی ہے بلوچ عوام بخوبی سمجھ چکے ہیں بی این پی ہی عوام کو مسائل سے نجات دہندہ سیاسی قوت ہے جسے دیوار سے لگانے ممکن نہیں کیونکہ عوام کی حمایت پارٹی کو حاصل ہے پارٹی جمہوری انداز میں جہد کرتے ہوئے پارٹی کے تنظیم اداروں کو فعال و متحرک کر کے مسائل کے حل کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں انہوں نے کہا کہ تمام جماعتوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ آل پارٹیز کانفرنس میں پیش کی جانے والی قراردادوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کیلئے آواز بلند کریں سیاسی جماعتوں ان قراردادوں پر عملدرآمد کروانے کیلئے سیاسی کردار ادا کریں تاکہ بلوچستان کے بلوچ عوام احساس محرومی میں کسی حد تک کمی آ سکے عوام کو بھی یقین ہو کہ میگاپروجیکٹس میں بلوچستان کے عوام کے ترجیح دی جائے گی انہوں نے کہا کہ پارٹی نے اس سے قبل بھی گوادر کے عوام کے مسائل کو مختلف ادوار میں اجاگر کرتے رہے ہیں وہاں کے مقامی بلوچ جو اپنے سرزمین پر صدیوں سے آباد ہیں مختلف ادوار میں مشکل حالات کے باوجود انہوں نے اپنے سرزمین کا دفاع کیا اب بھی حکمرانوں کو چاہئے وہاں کے عوام کے خوشحالی کیلئے کسی بھی اقدام سے گریز نہ کریں حقیقی ترقی و خوشحالی سے بھی عوام کے احساس محرومی میں کمی ممکن ہو سکے گی اسی طرح بلوچستان کے تمام میگاپروجیکٹس پر عوام کے حق ملکیت تسلیم کرتے ہوئے اختیارات بلوچستان حکومت کو دیئے جائیں ۔