کوئٹہ/اسلام آباد: نیشنل پارٹی کرکزی رہنماوں کا اسلام آباد کے پارٹی رہنماوں سے ملاقات اور ایک اجلاس زیر صدارات اسلام آباد کے آرگنائزر کشور ملک مہمان خاص پارٹیے کے مرکزی رہنما ڈاکٹر اسحاق بلوچ جب کے اعزای مہمان خاص بی ایس او پجار کے مرکزی چیئرمیین اسلم بلوچ ، محراب مری ۔ بی ایس او کے وائس چیئرمین کامیریڈ عمران ، مرکزی انفارمیشن سیکریٹری گہرام اسلم بلوچ ، م ڈاکٹر کے مرکزی قائدین نے اسلام آباد کا دورہ کیا اور دورے کی قیادت پارٹی کے سینئر مرکزی رہنما ڈاکٹر اسحاق بلوچ نے کی۔ جس میں اسلاآباد کے مختلف یونٹوں کے دوستوں کی شرکت ممکن ہوئی۔ اس کے علاوہ شرکاء میں نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما وں مرکزی وومن سیکریٹری ایم پی اے ڈاکٹر شمع اسحاق، سمیرا عنقاء ، ڈپٹی آرگنائزر سعداللہ بلوچ، کامران حبیب بنگلزء، عبداللہ دائیو، محمد عاصم، ڈیوڈ بون، ذولفقار و دیگر دوستوں نے شرکت کی۔اجلاس میں تنظیمی امور اور ملکی و بین الاقوامی سیاسی صورت حال پر بحث مباحثہ کرتے ہوئے پارٹی کے مرکزی رہنما ڈاکٹر اسحاق بلوچ نے کہا کہ نیشنل پارٹی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اسکی قیادت متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے سیاسی کارکنان کی بدولت ہے۔ پاکستان کی مختلف سیاسی جماعتوں نے پچھلے 68 سالوں عوامی سیاست کے نام پر عوام کو بے وقوف بنایا ہے جبکہ نیشنل پارٹی پاکستان کی وہ واحد جماعت ہے جو ملک میں بسنے والے ہر اس طبقے کی نمائندگی کرتی ہے جو شروع دن سے ظلم اور استحصال سہے رہے ہیں۔ ڈاکٹر اسحاق بلوچ نے کہا کہ اگر کیوبا میں سمیت تیسری دنیا کے کے دیگر ممالک میں چند مخصوص تعداد میں لوگ سماجی تبدیلی لا سکتے ہیں تو پاکستان کی عوام میں بھی سماجی تبدیلی آ سکتی ہیں وہ بھی ہمارے جیسے انسان تھے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں سماج میں سیاسی جمود جو پچھلے 68 سالوں میں بنی ہے اس توڑنا ہوگا جہد مسلسل کے ساتھ۔پارٹی کے مرکزی سینئر رہنما محراب بلوچ نے کہنا تھا کہ پاکستان ایک کثیرالقومی ریاست ہے جب تک پاکستان میں بسنے والے مختلف اقوام کی قومی تشخص کو تسلیم کرتے ہوئے مظبوط نہیں کیا جاتا اس وقت تک مرکز بھی مظبوط نہیں ہوسکتی۔ آج دنیا بدل چکی ہیں لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑھتا ہے کہ ہمارا سماج بجائے ارتقاء کے تنزلی کی طرف جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج پورے ملک میں بد امنی، دہشت گردی، فرقہ واریت، کرپشن، شخصیت پسند سیاست عروج پر ہیں جس کی وجہ ملک کو تباہی کے دہانے کھڑا کر دیا گیا ہے اور پاکستانی سیاست میں میں کردار کا فقدان نمایا نظر آتا ہے۔ جبکہ نیشنل پارٹی نے بلوچستان میں اپنے اڑھائی سالہ دور میں ایک عام متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے سیاسی کارکن ڈاکڑ عبدالمالک بلوچ کو ایک نہایت ہی مشکل ترین وقت میں وزیراعلی بنایا جب پورے صوبے میں پچھلے ایک دہائی سے آگ لگی ہوئی تھی ہر طرف اغواء برائے تاوان، ٹارگٹ کلنگ، ڈکیتی، راہزنی، کرپشن، سیاسی کارکنان کی مسخ شدہ لاشیں نیز بیڈ گورننس عروج پر تھی لیکن پارٹی کے سنجیدہ پالیسیوں کی بدولت بلوچستان کے حالات اور گورننس میں آج پہلے کی نسبت کافی بہتری آئی ہیں۔ بی ایس او (پجار ) کے مرکزی چیئرمین اسلم بلوچ نے کہا کہ پچھلے 68 سالوں میں تعلیم پر توجہ نہیں دی گئی جبکہ نیشنل پارٹی کی دور حکومت میں واضح تعلیمی اصلاحات کرتے ہوئے تعلیم کی بجٹ کو 4 فیصد سے بڑھا کر 26 فیصد کیا گیا۔ 5 نئے ینیورسٹیز، 3 نئے میڈیکل کالجز، ایگریکلچر کالجز سمیت تعلیمی اداروں کی بہتری کے لیئے خاطر خواہ اقدامات کیئے گئے جو کہ پارٹی کے علم دوستی کا ثبوت ہے نیشنل پارٹی اسلام آباد کے ارگنائزر کشور ملک نے کہا کہ نیشنل پارٹی سیاسی کارکنان کی جماعت ہے یہ کسی مخصوص فرد، زات یا شخصیت کی جماعت نہیں۔ بلکہ یہ پاکستان میں موجود ہر عام و خاص طبقے کی نمائندگی کرتی ہیں۔ نیشنل پارٹی کو پاکستان کی دوسری بڑھی جمہوری جماعت بننے پر قومی و بین الااقوامی سطح پر پذیرائی حاصل ہوئی جس کی وجہ سے نیشنل پارٹی کی مقبولیت میں دن بدن پورے ملک میں اضافہ ہو رہا ہے۔نیشنل پارٹی اسلام کے ڈپٹی ارگنائزر سعداللہ بلوچ نے کہا کہ نیشنل پارٹی ایک ترقی پسند جمہوری و عوامی پارٹی ہے۔ پارٹی کے قائدین و کارکنان کی انتک محنت و جہد مسلسل کی بدولت نیشنل پارٹی آج ایک ملک گیر جماعت بن چکا ہے۔ بلوچستان کی واحد جماعت جو کہ این اے پی کے بعد بلوچستان سمیت پورے ملک پسے ہوئے طبقات کی حقوق کی جنگ جمہوری انداز سے لڑ رہی ہیں۔ دوسرے سیاسی جماعتوں نے عوام کو صرف سیاسی نعروں کے سوا کچھ نہیں دیا لیکن نیشنل پارٹی نے عملی طور پر بلا رنگ و نسل، مذہب سے بالا تر ہو کر عملی طور پر اپنا کردار ادا کیا۔ دراثناء سعداللہ بلوچ نے اسلام آباد میں زیر تعلیم بلوچ طالبعلموں کے تعلیمی مسائل کی نشاندہی کی جسے مرکزی قیادت نے حل کرنے کی فوری یقین دہانی کرائیں ہیں۔ شرکاء4 سے عبداللہ دائیو، ڈیوڈ بون، محمد عاصم و دیگر دوستوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کو اسلام آباد میں مزید فعال بنایا جائے گا جس کے لیئے عوامی رابطہ مہم، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر پارٹی منشور کی تشہیر و بہت جلد سوشل میڈیا سیل بنانے کا عزم کا اظہار کیا شرکاء نے مزید پناما لیکس کے مسئلے پر متعلقہ اداروں سے گزارش کی ہے کہ اس مسئلے کی صاف اور شفاف تحقیقات کرائی جائے۔