کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ نے پارٹی کے سینئر رکن اسد جان کھیازئی کو گزشتہ روز قتل کرنے اورقاتلوں کی ہنوز گرفتاری نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک جانب حکمران بلند و بالا دعوے کرتے ہیں کہ انہوں نے بلوچستان میں امن و امان قائم کرنے کیلئے اقدامات کئے ہیں لیکن دن دیہاڑے کوئٹہ میں عوام کا جان و مال کا تحفظ یقینی نہیں ہے پارٹی کے رکن کی قتل و غارت گری جیسے اقدامات قابل مذمت ہیں شہید اسد جان کھیازئی کو دن دیہاڑے نشانہ بنایا گیا مگر ان کے قاتلوں کی ہنوز عدم گرفتاری باعث تشویش ہے یہ کھلی حقیقت ہے کہ حکمران عوام کے جان و مال کے تحفظ میں ناکام ہو چکے ہیں اور نہیں انسانی جانوں سے کوئی سروکار نہیں بلکہ لفاظی حد تک دعوے کئے جا تے ہیں حکومت شہید اسد جان کھیازئی کے قاتلوں کی گرفتاری کو یقینی بنائے ان خیالات کا اظہار انہوں نے ان کے گھر جا کر کلی کھیازئی مغربی بائی پاس بروری روڈ ان کے لواحقین سے بات چیت کرتے ہوئے کیا اس موقع پر شہید اسد کھیازئی کو زبردست الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا جنہوں نے پارٹی کیلئے ہمیشہ قربانیاں دی اور سہ رنگا بیرک کو بلند رکھا اس موقع پر یونٹ سیکرٹری عبدالحئی کھیازئی و دیگر نے اپنے علاقے کے مسائل سے آغا حسن بلوچ ، موسی بلوچ ، یونس بلوچ و دیگر کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ امن و امان کی بدترین صورتحال کے ساتھ ساتھ پانی ، صحت ، تعلیم ، سڑک سمیت دیگر مسائل سے آگاہ کیا اس موقع پر پارٹی رہنماؤں نے کہا کہ موجودہ حکمران بالخصوص کوئٹہ میں جس پالیسی کے تحت حکومت امور چلا رہے ہیں اور ترقیاتی کام کئے جا رہے ہیں اس میں بلوچ علاقوں کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے ایم پی اے ، ایم این اے فنڈز مخصوص گلیوں تک محدود ہیں لسانی بنیادوں پر کام کرائے جا رہے ہیں جبکہ کوئٹہ کے وزیراعظم پیکیج میں بروری کا علاقہ جو مغربی بائی پاس سے منسلک ہے جس میں کلی سردے ، اختر آباد ، کلی خلی ، سردار کاریز ، کلی کھیازئی ، فیصل ٹاؤن ، اے ون سٹی ، نیو کاہان مری ، مغربی بائی پاس ، گاہی خان چوک سمیت تمام بلوچ علاقوں کو وزیراعظم پیکیج اور صفائی مہم میں مکمل نظر انداز کر دیا گیا ہے جو باعث تشویش ہے حکومت بلوچستان کے ارباب و اختیار لسانی بنیادوں پر فنڈز کی تقسیم اور وزیراعظم پیکیج میں کوئٹہ کے بلوچ علاقوں کو نظر انداز کر رہے ہیں اس سے قبل بھی پارٹی نے ہر فورم پر مسائل کو اجاگر کر رہی ہے حکومت بلوچ دشمن اقدامات پر اتر آئی ہے شیخ ماندہ ، کلی بادینی میں بھی موجودہ حکومت کے تین سالوں میں کوئی ترقیاتی کام نہیں ہوا 2013ء کے انتخابات میں جس طریقے سے پارٹی مینڈیٹ کو چین کر من پسند افراد کو منتخب کرایا جائے اس سے عوام بخوبی واقف ہیں اب کوئٹہ کے تمام بلوچ علاقے انتہائی پسماندگی میں زندگی بسر رہے ہیں انسانی بنیادی ضروریات تک انہیں میسر نہیں ان علاقوں کے بلدیاتی نمائندوں کا تعلق پارٹی سے ہے ان کو بے اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ فنڈز بھی نہیں دیئے جا رہے ہیں ہماری کوشش ہوگی کہ کلی کھیازئی سمیت عوام کے مسائل کی نشاندہی کرتے رہے تاکہ عوام کوزندگی کی سہولیات میسر ہو سکیں حکومت فوری طور پر کوئٹہ میں وزیراعظم پیکیج اور صفائی مہم میں اکثریتی بلوچ علاقوں کو شامل کرے اس کے برعکس پارٹی اس مسئلے پر آواز بلند کرنے کو ترجیح دیتے ہوئے خاموش نہیں رہے گی وفاقی حکومت کے ارباب و اختیار کی بھی اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے کہ وزیراعظم پیکیج کی مانیٹرنگ کرے تاکہ مختص رقوم کرپشن کی نظر نہ ہو جائے ۔