|

وقتِ اشاعت :   April 21 – 2016

کوئٹہ: ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان نے حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں آج کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر کے سرکاری ہسپتالوں میں 2 گھنٹے ٹوکن ہڑتال کرنے کا اعلان کر دیا اور کہا کہ اگرپھربھی مطالبات تسلیم نہ ہوئے تو 25 اپریل سے شروع ہونیوالی پولیو مہم کا بھی بائیکاٹ کیا جائیگا ان خیالات کا اظہارینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر حفیظ مندوخیل نے سول ہسپتال میں پریس کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے کیااس موقع پر ڈاکٹر حمل بگٹی ، ڈاکٹر یاسر خوستی سمیت دیگر بھی موجود تھے انہوں نے کہا ہے کہ 7 اپریل کو ڈاکٹروں کی پرامن ریلی پر پولیس اور انتظامیہ نے لاٹھی چارج کیا جس کی وجہ سے ہمارے کئی ڈاکٹر زخمی ہوئے اور کئی ڈاکٹروں کو گرفتار بھی کیا واقعہ کے بعد حکومت نے ڈاکٹروں سے مذاکرات کر نے کی کوشش اور وزیرعلیٰ بلوچستان نے وزراء پر مشتمل ایک مذاکراتی کمیٹی تشکیل دی کمیٹی سے دو ملاقاتیں ہوئے لیکن نتیجہ کوئی نہیں نکلا انہوں نے کہا ہے کہ ہمارے ساتھ حکومتی کمیٹی نے جو وعدے کئے تھے کسی ایک وعدے پر بھی عمل نہیں کیا انہوں نے کہا کہ 20 اپریل تک ہم نے ڈیڈلائن دی تھی اگر پھر مذاکرات ناکام ہوئی تو ہم دوبارہ احتجاج کر نے پر مجبور ہونگے انہوں نے کہاکہ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن آج کوئٹہ سمیت بلوچستان کے سرکاری ہسپتالوں میں 2 گھنٹے ٹوکن ہڑتال کریگی اور یہ ٹوکن ہڑتال صبح9 بجے 11 بجے تک جاری رہے گی اگر پھر بھی مطالبات تسلیم نہ ہوئے تو آئندہ کا لائحہ طے کرینگے اور25 اپریل سے پولیو مہم کے بائیکاٹ کا فیصلہ بھی شامل ہے اور اس کے علاوہ احتجاجی مظاہرے استعفے دینے کا آپشن بھی موجود ہے انہوں نے کہا ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں طلباء تنظیموں ، وکلاء برادری اور سول سوسائٹی سے بھی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے انہوں نے کہا کہ آج وزیراعلیٰ بلوچستان سے ملاقات متوقع ہے اور آئندہ مطالبات تسلیم ہونے تک کسی بھی کمیٹی سے مذاکرات نہیں کرینگے اور عوامی آگاہی مہم بھی شروع کی ہے انہوں نے کہا کہ ینگ ڈاکٹروں کے احتجاج کے باوجود سرکاری ہسپتالوں میں بنیادی سہولیات اب تک فراہم نہیں کی گئی اور اب بھی وزیراعلیٰ بلوچستان سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ سرکاری ہسپتالوں میں ان تمام تر صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لے انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے باشعور عوام کو عوامی آگاہی مہم کے ذریعے بتانا چاہتے ہیں کہ7 اپریل کو ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن عوام کو ہسپتالوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے ایک یاداشت پیش کر نے صوبائی اسمبلی جارہی تھی لیکن ڈاکٹرز کی ریلی کو جس بربریت کا نشانہ بنایا گیا وہ آپ سب کچھ چکے ہیں ینگ ڈاکٹرز ایوسی ایشن چاہتی ہے کہ مندرجہ ذیل سہولیات عوام کے مفاد کیلئے ہسپتال میں24 گھنٹے میسر ہوں مریضوں کے بنیادی خون کے معینات، ایکسرے سی ٹی اسکین، ایم آر آئی اور الٹرساؤنڈ تمام ایمر جنسی ادویات کی فراہمی ایمر جنسی آپریشن تھیٹر بمعہ مکمل نشہ آور ادویات ایمر جنسی آپریشن کی سہولیات سرجیکل ، میڈیکل، گائنٹی اور پیڈز وارڈ میں آئی سی بمعہ وینٹی لیٹر کی فراہمی سول ہسپتال کے موجودہ ٹراما سینٹر کو فعال کیا جائے صفائی سھترائی کی ناقص صورتحال کو بہتر بنایا جائے ہسپتال میں مریضوں، ڈاکٹروں اور عملے کیلئے فل پروف سیکورٹی انتظام کیا جائے ان تمام مسائل کے حل ہونے تک ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کا احتجاج جاری رہے گا پمفلیٹ کے ذریعے ینگ ڈاکٹرز عوام الناس سے بھر پور تعاون کی امید کر تی ہے اور حکومت کو یہ پیغام بھی دینا چاہتی ہے کہ مطالبات کے تسلیم نہ ہونے کی صورت میں عوام کے مفاد میں دوبارہ سڑکوں پر آجائیں گے۔