اسلام آباد/ کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے سیکرٹری جنرل سینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی نے سینٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ تعلیم کو بلوچستان کے طلباء کیلئے شجر ممنوع بنایا جا رہا ہے ہائیر ایجوکیشن کمیشن ‘ وزیراعظم سکالرشپ و وفاق کے دیگر اداروں میں بلوچستان کے طلباء کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے پرائم منسٹر اسکالر شپ پروگرام کی بندش سے بلوچستان کے طلباء کی مشکلات بڑھ رہی ہیں ملک کے مختلف تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طلباء کی فیس کی عدم ادائیگی سے طلباء کا مستقبل داؤ پر لگ چکا ہے فوری طور پر فیصلے پر نظرثانی کی جائے انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایچ ای سی بلوچستان کے طلباء کا کوٹہ 6فیصد ہے موجودہ دور میں صوبے کو کوٹے سے صرف 0.7فیصد دیا جا رہا ہے جو سراسرظلم اور ناانصافی ہے چیئرمین ایچ ای سی صورترحال کا فوری نوٹس لیں صوبے کے تمام اصلاع کے طلباء کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع فرائم کئے جائیں اسی طرح وزیراعظم فیس ری ایمبرسمنٹ اسکیم کے تحت جامعات میں زیر تعلیم طلباء کی فیس معاف کی جائے بلکہ بلوچستان کی کم آبادی و پسماندگی کے پیش نظر اسکیم کو ایک سالہ اور چار سالہ پروگرامز تک توسیع دی جائے تاکہ کالجز میں شروع کئے جانے والے بی ایس آنر ‘ ڈگری کورسز کے طلباء بھی اسکیم سے مستفید ہو سکیں انہوں نے کہا کہ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ ایچ ای سی سمیت وفاق کے دیگر اداروں میں بلوچستان کو نظر انداز کیا جاتا ہے اور جو دیا جاتا ہے اس میں بھی زیادہ حصہ جعلی ڈومیسائل والوں کا ہوتا ہے جو صوبے کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے ۔