اسلام آباد: وفاقی وزیرسیفران لیفٹیننٹ جنرل (ر)عبدالقادر بلوچ نے کہا ہے کہ افغان مہاجرین کی واپسی کے عمل کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے، افغان مہاجرین کی واپسی کے بعد ہی افغان قوم مکمل تصور ہو گی، پاکستان افغان مہاجرین کا 36برس سے بوجھ اٹھاتاآ رہا ہے،افغان مہاجرین سے درخواست ہے کہ رجسٹریشن کے عمل میں بھرپور شرکت کریں،رجسٹرڈ مہاجرین کو پاسپورٹ اور دیگر قانونی دستاویزات ملیں گی، مہاجرین کی موجودہ مہلت دسمبر 2017تک بڑھانے کیلئے کابینہ کو تجویز دیں گے۔ وہ جمعہ کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ جنرل (ر)عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ واپس جانے والے افغان مہاجرین کو مالی امداد دی جائے گی، افغان مہاجرین کی واپسی کیلئے فنڈز کی دستیابی مسئلہ رہی تھی، مہاجرین کو فنڈز کی دستیابی کیلئے اداروں سے متعدد رابطے کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کی موجودہ حکومت نے مہاجرین کے مسئلے کو زیادہ سنجیدگی سے لیا ہے، افغانستان کی 6وزارتیں اور عالمی ادارے مہاجرین کی واپسی کیلئے انتظامات کر رہے ہیں۔وفاقی وزیر سرحدی امور نے کہا کہ افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے، افغان مہاجرین کی واپسی کے بعد ہی افغان قوم مکمل تصور ہو گی، پاکستان نے افغان مہاجرین کا 36برس سے بوجھ اٹھاتا رہا ہے، کوشش ہو گی کہ افغان مہاجرین کی واپسی میں کوئی مسئلہ نہ ہو، افغان مہاجرین سے درخواست ہے کہ رجسٹریشن کے عمل میں بھرپور شرکت کریں، مہاجرین رجسٹرڈ نہ ہوئے تو پھر انہیں پریشانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، رجسٹرڈ ہونے والے مہاجرین کو پاسپورٹ اور دیگر قانونی دستاویزات ملیں گی، مہاجرین کی موجودہ مہلت دسمبر 2017تک بڑھانے کیلئے کابینہ کو تجویز دیں گے