کوئٹہ: بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن بی ایس او کے زیر اہتمام بلوچستان یونیورسٹی میں شہید عمر بلوچ آڈیٹوریم میں بیوٹمز (آئی ٹی ) یونیورسٹی کے طلباء کے لیئے ویلکم پارٹی دی گئی جس میں سینکڑوں کی تعداد میں آئی ٹی اور بلوچستان یونیورسٹی کے طلباء موجود تھے جو کہ زیرِ صدارت بی ایس او کے مرکزی چئیرمین نزیر بلوچ منعقد ہو جبکہ مہمانِ خاص بلوچستان نیشنل پارٹی کے قائمقام صدر ملک ولی کاکڑ تھے پروگرام سے بی ایس او کے مرکزی چئیرمین نزیر بلوچ،بی این پی کے قائمقام صدر ملک ولی کاکڑ،بی ایس او کے سیکریٹری جنرل منیر جالب بلوچ ،بی ایس کے سینئر وائس چئیرمین ڈاکٹر عزیز بلوچ ،جونئر وائس چئیرمین خالد بلوچ،شوکت بلوچ،بی این پی کے رہنما حاجی زاہد بلوچ،بی ایس او کے سابقہ آرگنائزرو بی این پی کے جاوید بلوچ،میمونہ بلوچ ،امجد بلوچ،عتیق بلوچ،جہانگیر منظور بلوچ ،عاطف بلوچ نے خطاب کیا جبکہ سٹیج سیکریٹری کے فرائض اقبال بلوچ نے ادا کیا مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ بلوچستان اس وقت انتہائی نازک دور سے گزر رہی ہے اکیسویں صدی میں بھوک ، پسماندگی اور بے تعلیمی نے بلوچ قوم کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے جس کی ذمہ دار اسلام آباد اور پنجاب میں بیٹھے وہ لوگ ہیں جو اپنی نصابوں میں بلوچ کو چور ڈاکو پکار کر اپنی بات کی تعمیل کے لیئے چور ڈاکووُں کو اقتدار میں مصنوئی فرشتوں کی طاقت سے لاکھڑا کر تے ہیں بلوچستان کے جن فوجی افسران کو کرپشن میں معطل کیا گیا ہے وہ ایک کھیل ہے نہیں تو ان فوجی افسران کو ان کے دور میں 600مسخ شدہ لاشوں کے بدلے سلاخوں کے پیچھے کیوں نہیں رکھا گیا یہ قانون صرف مظلوم پہ زور آزمائی جبکہ اپنے قاتلوں کو ریڈ کارپٹ فراہم کرتا ہے گوادرکے نام پر اسلام آباد میں شمعے موم بتی جبکہ بلوچستان میں ہمارے گھر جلائے جا رہے ہیں جو کہ ہزاروں سال سے کسی دشمن نے ہمارے اجداد کے گھر نہیں جلائے آج 70سال گزرنے پر ان کو ہو ش آیا ہے کہ ہم گوادر سے بلوچوں کو ترقی دینگے جس سے خوب اندازہ ہے کہ ہمارے سرزمین کو اغیار کی آماجگاہ اور ہمیں ماہی گیر بنائے جا رہے ہیں بی ایس او بلوچستان کے ماوُں بہنوں کی ارمان جماعت ہے جو قلم و کتاب سے انقلاب لانے کے لیئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کر تی آرہی ہے بلکہ سائنس و ٹیکنالوجی کے دور میں یونیورسٹیوں اور کالجوں کو آباد کر کے بلوچ قوم کو لکھا پڑھا قوم تصور دینے کی انقلابی جدوجہد کریگی افغان مہاجرین کو آج جن بھائیوں نے آستیں میں چھپا رکھے ہیں کل ہم سے ذیادہ ان کے لیئے آستین کا سانپ بن کر موذی مرض بن جائینگے تاریخ کو انگلی سے چھپانے والے یاد کر لیں تاریخ وہ ہے جو حقیقت ہے لیکن بلوچ کی تاریخ کو بلوچ طلباء کی لاشوں کی طرح مسخ کر کے پیش کیا جا رہا ہے اور ہمیں اقتصادی ،سیاسی ،انسانی و سماجی، تعلیمی نسل کشی کا سامنا ہے جو کہ اقوام کے لیئے لمحہ فکریہ ہے لیکن ان حکمرانوں کو نوشتہ دیوار پڑھنا چاہیئے جو طاقت آزمائی سے ہمیں صفحہ ہستی سے مٹانا چاہتے ہیں تشدد ہمیشہ نفرتوں کو جنم دیتا ہے ہم فکر کے وارث ہیں فکرو شعور کبھی نہیں مر تے جو کہ نسلوں میں منتقل ہوتے ہیں آج بلوچ سیاسی و تعلیمی میدان میں اپنی بقاء کی جدوجہد کر رہا ہے بی ایس او کو دنیا کا سب سے قربانی سے بھر پور سیاسی طلبہ تنظیم کا اعزاز حاصل ہے آخر میں بی ایس او یونیورسٹی یونٹ و کوئٹہ زون کی طر ف سے بیوٹمز کے طلباء کے لیے ریفریشمنٹ اور دھول چاپ کا انعقاد کیا گیا۔